جاپان کے ’رلانے والے خوبصورت لڑکے‘

Image caption ریوسی کا پیشہ غیرمعمولی ہے، ان کا کام لوگوں کا رلانا ہے

جاپانی کمپنیاں اپنے عملے کو رلانے کے لیے کچھ خاص لوگوں کی خدمات حاصل کر رہی ہیں۔ کمپنی کے ملازمین افسردہ فلمیں دیکھتے ہیں جبکہ ایک ’خوبصوت رونے والے لڑکا‘ ان کے آنسو پونچھتا ہے۔

اس کا بظاہر مقصد لوگوں کی تعلق میں مضبوطی لانے میں مدد دیتا ہے۔

ہم ٹوکیو میں ایک دفتر کے کانفرنس روم میں دس کے قریب افراد موجود تھے اور ایک شخص نے کچھ فلموں کے مناظر ٹی وی سکرین پر چلائے۔

چھوٹے چھوٹے سپیکروں میں سے موسیقی سنائی دیتی ہے اور ایک بہرے شخص اور اس کی بیٹی کی کہانی چلنا شروع ہوتی ہے۔ بیٹی کسی سخت بیماری میں مبتلا ہے اور اسے ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے۔ وہ شخص یہ بتانے سے قاصر رہتا ہے کہ وہ اس لڑکی کا باپ ہے اور اسے استقبالیہ ڈیسک سے آنے جانے نہیں دیا جاتا۔

Image caption ریوسی لوگوں کے آنسو پونچھتے ہیں

اس فلم کا اختتام اس کے زار و قطار روتے ہوئے ہوتا ہے جبکہ اس کی بیٹی اکیلی موت کے منھ میں چلی جاتی ہے۔

اسی طرح کی ایک اور اداس کر دینے والی فلم دکھائی جاتی ہے اور کمرے میں موجود نصف افراد کی نظریں ٹی وی سکرین پر جمی ہوئی تھیں اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

یہ فلمیں دکھانے والا شخص کمرے میں ایک رومال کے ساتھ چلنا شروع کرتا ہے اور لوگوں کے چہروں سے آنسو صاف کرتا ہے۔ ہر شخص کے لیے وہ الگ خشک رومال کا استعمال کرتا ہے۔

رومال والے شخص ریوسی نے مجھے بتایا: ’جب میں نے یہ ورکشاپ شروع کیں تو کچھ عجیب و غریب صورت حال کا سامنا بھی ہوا۔‘

وہ کسی ماڈل کی طرح وہ خوبصورت تھا اور آنسو صاف کرنے کے کام کے بارے میں خاصا سنجیدہ تھا۔ ٓ ’میری اتنی مشق نہیں ہو اور آسانی سے رلا نہیں سکتا تو اس کا مطلب ہے کہ حاضرین بھی نہیں رو سکتے۔ لیکن اب صورت حال بہتر ہے، میں رو سکتا ہوں اور دوسرے بھی ایسا کرتے ہیں۔‘

Image caption رلانے والی ورکشاپس ہروکی ٹیرائی کی ذہنی اختراع ہے

اس کا پیشہ غیرمعمولی ہے، ’اکیمیسو دنشی‘ یا ’خوبصورت رونے والا لڑکا۔‘ ان کا کام لوگوں کا رلانا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’جاپانی کسی کے سامنے رونے کے عادی نہیں ہیں۔ لیکن جب آپ دوسرے کے سامنے روتے ہیں، خاص طور پر کاروبار میں، تو ماحول تبدیل ہو جاتا ہے۔‘

اس کا مقصد یہ ہے کہ اپنی کمزوری کو ظاہر کیا جائے۔ جب دوسرے ایسا دیکھتے ہیں تو وہ آپ کے قریب آتے ہیں چنانچہ ایک ٹیم کے طور پر بہتر کام سرانجام ہوتا ہے۔

دکھائی جانے والی فلموں کے موضوعات عام طور پر پالتو جانوروں کے ساتھ سلوک یا باپ بیٹی کے تعلقات پر مبنی ہوتے ہیں۔

رلانے والی ورکشاپس ہروکی ٹیرائی کی ذہنی اختراع ہیں۔ وہ کاروباری شخصیت ہیں اور چاہتے ہیں کہ جاپانی لوگ اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کریں۔

Image caption دکھائی جانے والی فلموں کے موضوعات عام طور پر پالتو جانوروں کے ساتھ سلوک یا باپ بیٹی کے تعلقات پر مبنی ہوتے ہیں

وہ بتاتے ہیں کہ اس کا آغاز اس وقت ہوا جب ان کی عمر 16 برس تھی۔ سکول میں ان کا کوئی دوست نہیں تھا اور انھیں ایک بار ٹائلٹ میں کھانا کھانا پڑا تھا۔ ان کے بقول یہ ایک مشکل وقت تھا اور اس دوران انھوں نے لوگوں کے جذبات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کا عمل شروع کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ بظاہر آپ مسکرا رہے ہوتے ہیں لیکن ہمیشہ آپ اندر سے ایسا محسوس نہیں کر رہے ہوتے۔

ان کا پہلا پروجیکٹ طلاق سے متعلق تھا جس میں ناکام شادیوں والے جوڑے شرکت کرتے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس کا اختتام شادی کی انگوٹھی کو ہتھوڑے سے توڑنے پر ہوتا تھا۔

ان جوڑوں کا کہنا تھا کہ اس سارے عمل میں رونا سب سے زیادہ تذکیۂ نفس والا لمحہ تھا۔

چنانچہ ہیروکی نے سنہ 2013 میں رونے رلانے کا کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

ٹوکیو میں ان کی ورکشاپ میں کوئی بھی شرکت کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں