’سوشل میڈیا کمپنیاں انتہا پسندی سے لڑنے میں ناکام‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حال ہی میں مجرم قرار دیے جانے والے انجم چوہدری ایک عرصے تک انٹرنیٹ پر فعال رہے

برطانیہ کے ارکان پارلیمان نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں ان گروپس کا مقابلہ کرنے میں ’دانستہ طور پر ناکام ہو رہی ہیں‘ جو انتہا پسندی کے فروغ کے لیے ان کا سہارا لیتے ہیں۔

وزارت داخلہ کی سیلیکٹ کمیٹی نے کہا کہ فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب پر مالکانہ حق رکھنے والی گوگل جیسی کمپنیوں کو ’ذمے داری کے احساس کا زیادہ مظاہرہ کرنا چاہیے۔‘

تاہم تینوں کمپنیوں نے کہا ہے کہ وہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے کردار کو سنجیدگی سے نبھا رہی ہیں۔

اس صنعت سے تعلق رکھنے والے ادارے ’ٹیک یوکے‘ نے کہا ہے کہ اس ضمن میں کس قدر کام ہو رہا ہے اس کے بارے میں اراکین پارلیمان نے ’غلط تصویر پیش کی ہے‘۔

اپنی رپورٹ میں کمیٹی نے ان کمپنیوں پر یہ الزام لگایا ہے کہ انٹرنیٹ پر انتہا پسندی سے لڑنے کے معاملے میں یہ ’اپنی ذمے داریاں دوسروں کے سروں پر ڈالتی رہتی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سماجی رابطے کی کمپنیوں نے کہا ہے کہ ان کی غلط تصویر پیش کی گئی ہے

تاہم ایک ماہر کا خیال ہے کہ یہ نتیجہ اخذ کرنا قابل اعتراض طور پر سادہ اور گمراہ کن ہے۔

اراکین پارلیمان کی کمیٹی نے کہا: ’فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب جیسے نیٹ ورک پروپیگنڈہ کے لیے پسندیدہ ذرائع ہیں اور یہ دہشت گردی کے لیے بھرتی کرنے کے پلیٹ فارم بن گئے ہیں۔‘

کمیٹی کے سربراہ کیتھ ویز نے الزام لگایا کہ یہ نیٹ ورک ماورائے ملک اپنی قانونی حیثیت کا ’فائدہ اٹھاتے ہیں‘ اور کہا کہ انھیں ان معلومات کی تفصیل شائع کرنی چاہیے کہ وہ کتنے مواد ہٹاتے ہیں اور کتنی جلدی ہٹاتے ہیں۔

اسی بارے میں