فرانس: برقینی پر عائد پابندی معطل، میئرز پر دباؤ

تصویر کے کاپی رائٹ VINTAGENEWS
Image caption برقینی پہننے پر جن لوگوں کو جرمانہ ادا کرنا پڑا وہ اپنی رقم کی واپسی کا دعویٰ بھی کر سکتے ہیں: وکیل

فرانسیسی کورٹ کی جانب سے ساحلی قبصے ویلنو لوبٹ میں برقینی پر عائد متنازع پابندی کےمعطل ہونے کے بعد میئرز کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے پر توجہ دیں تاہم اس پر پابندی عائد کرنے والے 26 میں سے تین میئرز کا کہنا ہے کہ وہ اس پابندی کو برقرار رکھیں گے۔

جمعے کو اپنے فیصلے میں عدالت کا کہنا تھا کہ یہ ’پابندی سنجیدہ اور واضح طور پر آنے جانے کے بنیادی حقوق کی آزادی کی خلاف ورزی ہے، عقائد اور افراد کی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔‘

٭ برقینی پر پابندی کا فیصلہ اعلیٰ عدالت میں چیلینج

٭ پابندی کے بعد برقینی کی فروخت میں 200 فیصد اضافہ

یہ فیصلہ ان 30 سے زائد علاقوں کے لیے بھی ایک مثال ہو سکتا ہے جہاں برقینی پر پابندی عائد ہے۔

ویلنو لوبٹ کےقصبے کے میئر سمیت دیگر قصبوں کے میئرز کو حبردار کیا گیا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے پر توجہ دیں۔ تاہم کم ازکم تین اور مییرز کا کہنا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں اس پابندی کو برقرار رکھیں گے۔

ادھر انسانی حقوق اور اینٹی اسلامو فوبیا ایسوسی ایشن جس نے عدالت کی توجہ برقینی پر عائد پابندی کی جانب مبذول کروائی تھی کے وکیل پیٹرس سپینسو نے کہا ہے کہ اگر میئرز عدالتی فیصلے پر عمل نہیں کریں گے تو وہ ہر کیس کو عدالت میں لے کر جائیں گے۔

عدالت برقینی پر پابندی کی قانونی حیثیت کے حوالے سے اپنا حتمی فیصلہ بعد میں سنائے گی۔

عدالت کے باہر وکیل کا کہنا تھا کہ برقینی پہننے پر جن لوگوں کو جرمانہ ادا کرنا پڑا وہ اپنی رقم کی واپسی کا دعویٰ بھی کر سکتے ہیں۔

برقینی پر نام نہاد پابندی نے فرانس سمیت دنیا بھر میں اس پر بحث کا آغاز کیا تھا۔

رائے شماری کے مطابق فرانسیسیوں کی زیادہ تر تعداد برقینی پر پابندی کی حامی ہے۔

خیال رہے کہ فرانس میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے ملک کے 26 علاقوں میں ساحلِ سمندر پر برقینی پر عائد پابندی ختم کرنے کے لیے فرانس کی اعلیٰ ترین عدالت سے رجوع کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption مسلمانوں کا کہنا ہے کہ انھیں غیر منصفانہ انداز میں ہدف بنایا جا رہا ہے

فرانس کے 26 قصبوں کے میئروں نے امن و امان کی صورت حال برقرار رکھنے اور سیکولرزم کے بنیادی اصول کے تحت ساحل پر برقینی پہننے پر پابندی لگائی تھی۔

برقینی پر پابندی کے خاتمے کے لیے انسانی حقوق کی تنظیموں نے نیس کی عدالت سے رجوع کیا لیکن انھیں کامیابی نہیں ہوئی جس کے بعد انھوں نے یہ درخواست فرانس کی سب سے بڑی عدالت کونسل آف سٹیٹ میں جمع کروائی تھی۔

ادھر مسلمانوں کا کہنا ہے کہ انھیں غیر منصفانہ انداز میں ہدف بنایا جا رہا ہے۔

برقینی پر پابندی کے اس فیصلے سے فرانس کی حکومت میں شامل سینیئر ارکان کی رائے بھی تقسیم ہو گئی تھی۔

فرانس کے وزیراعظم نے ایک بحث کے دوران کہا تھا کہ برقینی پوش خواتین جمہوریہ فرانس کی مزاحمت کو آزما رہی ہیں جبکہ ملک کے وزیر تعلیم نے اس پابندی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ساحل پر خواتین کے کپڑوں کا اسلامی جہادی تنظیموں سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔

خیال رہے کہ فرانس میں یہ تنازع اُس وقت سامنے آیا جب نیس کے ساحل پر پولیس برقینی پر عائد پابندی کو یقینی بناتے ہوئے ایک خاتون سے برقینی اتروا رہی تھی۔ سوشل میڈیا پر اس تصویر کے وائرل ہونے کے بعد کئی افراد نے بہت غصے کا اظہار کیا۔

اسی بارے میں