’ٹرمپ کا ٹرمپ کارڈ‘، متبادل دایاں بازو

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES
Image caption آل رائیٹ گروپ کے ارکان سیاسی راستی سے نفرت اور ڈونلڈ ٹرمپ کے محبت کرتے ہیں

امریکی صدارتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے اندر موجود شدت پسند خیالات رکھنے والا ایک گروہ پارٹی کے قدامت پسند طبقوں کے لیے دردِ سر بنا ہوا ہے۔

اس گروپ کے ارکان سیاسی درستی سے نفرت اور ڈونلڈ ٹرمپ کے محبت کرتے ہیں۔ لیکن اس گروپ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے ارکان متعصب، سفید فام، قوم پرست ہیں۔

ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار ہِلیری کلنٹن نے گزشتہ رات ڈونلڈ ٹرمپ کو ’آلٹ رائیٹ‘ یا متبادل دائیں بازو کے نام سے جانی جانے والی ابھرتی ہوئی نسلی تعصب پر مبنی نظریے‘ سے تعلق کی بنیاد پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

برطانیہ کے علاقے سرے کی رہائشی ایئن ڈیوس آلٹ رائٹ کے متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تحریک میں مختلف پس منظر کے لوگ شامل ہیں جن میں آزادیوں کے حامی، مردوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے، عیسائی، روایت پسند اور نیو نازی سبھی شامل ہیں۔

’یہاں پر ان سب نظریات کی ترویج ہو رہی ہے۔ یہ کمیونٹی سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں اور نیٹ ورکوں پر کام کرتی ہے اور یہاں ہر پس منظر کی شخصیات اور چہرے موجود ہوتے ہیں۔‘

آلٹ رائٹ کے حامی ان لوگوں کے بارے میں جنھیں وہ اپنا دشمن سمجھتے ہیں خاص طور زہریلے ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایوانِ نمائندگان کے سپیکر پال ریان نے حال ہی میں بزنس مین پال نہلن کے خلاف بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔

ٹائم میگزین کے مطابق ٹرولنگ یا انٹرنیٹ پر ناپسندین پیغامات کے ذریعے ناک میں دم کرنا آلٹ رائیٹ کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ وہ لبرل لوگوں کا خاکہ اڑانے کے لیے انہیں ’سوشل جسٹس واریئرز‘ (سماجی انصاف کے لیے لڑنے والے جنگجو) یا ایس جے ڈبلیوز اور قدامت پسندوں کو ’ککزرویٹیوز‘کہتے ہیں۔

ڈیوس کا کہنا ہے کہ مسلمان ملکوں سے امیگریشن کی مخالفت نے انھیں اس تحریک کی طرف راغب کیا اور وہ کئی آن لائن معرکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے چکے ہیں۔

ایس جے ڈبلیو آپ کو الگ تھلگ کر دیتے ہیں اور آپ کو خوشی کے نسلی تعصب رکھنے والے یا ’ریسِسٹ‘ کہتے ہیں، یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آپ کہاں رہتے ہیں، کہاں کام کرتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ آپ کو نوکری سے نکال دیا جائے۔‘

’ہمیں اس چیز سے دلچسپی ہے کہ اس طرح کے طرز عمل کا خاتمہ ہو۔ آلٹ رائیٹ کی طرف سے کی جانے والی چیزوں میں سے یہ ایک چیز ہے جو مجھے پسند ہے۔ ہم اس آن لائن بدتہذیبی کا جواب دے رہے ہیں باوجود اس کے ہمیں خود آن لائن بدتہذیبی کا مرتکب قرار دیا جاتا ہے۔‘

بریٹ بارٹ ویب سائٹ کے ٹیکنالوجی ایڈیٹر مائیلو یئناپولس آلٹ رائیٹ سے منسلک بڑے ناموں میں سے ایک ہیں۔ وہ حال ہی میں اس وقت خبروں میں آئے جب ان کے خلاف فلم ’گھوسٹ بسٹر‘ کے اداکار لیزلی جونز کے خلاف آن لائن نفرت آمیز پیغامات کی مہم کے بعد ٹوئٹر پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ GettyImages
Image caption ہلیری کلنٹن نے گزشتہ رات ڈونلڈ ٹرمپ کو آلٹ رائیٹ سے تعلقات بنیاد پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

یئناپولساس بات کو تسلیم کرنے ہیں کہ کچھ کھلم کھلا تعصب پر منبی خیالات رکھنے والے آل رائیٹ کی طرف راغب ہوئے ہیں لیکن انھوں نے اس بات کی تردید کی کہ یہ تحریک کے سیاسی فلسفے کا مرکزی موضوع ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’وائٹ سپرامِسٹ‘ یا سفید فام برتری کے خیالات رکھنے والی تحریک کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔ کلچر اور خاص طور پر مغربی تہذیب گروپ کے لیے بنیادی محرک ہیں۔

’اصل ریسسٹ بہت سنجیدہ لوگ ہیں جو بہت گہری ریسرچ اور ڈیٹا کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کچھ نسلی گروہ دوسروں سے زیادہ ذہیں ہوتے ہیں۔‘

ریپبلکن پارٹی کے قدامت پسند طبقے امریکی ایوانِ نمائندگان کے سپیکر پال ریان کی بزنس مین پال نہلن کے خلاف بھاری اکثریت سے کامیابی سے حوصلہ پکڑ سکتے ہیں۔ پال ریان نے اپنے حریف پر آل رائیٹ سے تعلق رکھنے کا الزام لگایا تھا اور ان کی تقریروں کو ’مایوس کن، تکلیف دہ اور ناقابلِ دفاع‘ قرار دیا تھا۔

لیکن ٹرمپ کی صدارتی امیدوار بننے میں کامیابی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ریپبلکن اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کی کوئی گنجائش نہیں۔