ترکی میں پولیس کی عمارت کے باہر دھماکہ، 11 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ترکی کے حکام کا کہنا ہے کہ جنوب مشرقی شہر جزیرہ میں انسداد ہنگامہ آرائی کی پولیس کے ہیڈ کوارٹر کے باہر کار بم دھماکے کے نتیجے میں11 پولیس اہلکار ہلاک اور کم از کم 78 زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ دھماکہ گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق جمعے کی صبح چار بجے ہوا جس سے پولیس ہیڈکواٹر ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ جزیرہ شام کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

٭ ترکی: پولیس پر حملوں میں 12 ہلاک، 219 زخمی

* ترکی میں دو دھماکے آٹھ افراد ہلاک، متعدد زخمی

تصاویر میں اس کثیر المنزلہ عمارت کی تباہی واضح ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے میں ہیڈ کوارٹر کے باہر چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں عمارت تباہ ہوئی۔

ترکی کے وزیر اعظم علی بن یلدرم نے کردستان ورکرز پارٹی کو دھماکے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں کو ایسا جواب ملے گا جس کے وہ حقدار ہیں۔

حالیہ مہینوں میں ترک سکیورٹی فورسز کی جانب سے کردوں کے خلاف آپریشن کے دوران جزیرہ شہر میں کئی بار کرفیو نافذ کیا جا چکا ہے۔

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان الزامات کی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ترکی کی حکومت نے جزیرہ کی ایک عمارت کی تحہ خانے میں پناہ لیے ہوئے 100 افراد کو زندہ جلا دیا۔ ترکی کی حکومت نےان الزامات کی سختی سے تردید کی کہ وہ عام شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گذشتہ کئی ماہ سے جزیرہ میں کئی بار کرفیو نافذ کیا جا چکا ہے جہاں حکومت پی کے کے کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے

یاد رہے کہ جولائی 2015 میں حکومت اور پی کے کے کے درمیان دو سالہ جنگ بندی ختم ہو گئی تھی۔ اس کے بعد سے ترکی کے جنوب مشرق میں بدترین تشدد دیکھا گیا ہے۔

پی کے کے کی جانب سے متعدد حملے کیے گئے ہیں جن میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ترکی میں بی بی سی کے نامہ نگار مارک لوون کےمطابق ترکی اور کردوں کے مابین جاری جھگڑے کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ وہ کردوں کے ساتھ اس وقت تک کوئی مذاکرات نہیں کرے گی جب تک وہ مسلح جہدوجہد کو ترک کرنے کا اعلان نہیں کرتے۔

کردوں کےساتھ جاری تنازعے کےعلاوہ ترکی شدت پسندگروہ دولت اسلامیہ کے ساتھ بھی نبرد آزما ہے۔

اسی بارے میں