شام: حلب میں دو بم حملے، 15 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دمشق کے مضافاتی علاقے داریا سے لوگوں کا انخلا جاری ہے

اطلاعات کے مطابق شام کے شہر حلب میں ایک بم حملے میں کم از کم پندرہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے والی ایک برطانوی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق باغیوں کے زیرِ تسلط حلب میں ہونے والے اس حملے میں نشانہ بننے والے لوگ خود وہاں پر ایک دوسرے بم حملے میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں جمع ہوئے تھے۔

شام کے چار برس سے محصور شہر داریا سے انخلا شروع چار برس بعد داریا سے انخلا، تصاویر

تنظیم کا کہنا ہے کہ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ بیرل بم کے اس حملے کے بعد کئی ایمبولینس گاڑیوں کو جائے وقوعہ کی جانب جاتے دیکھا گیا اور جب لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں جمع تھی تو دوسرا بم حملہ ہوا جس میں مزیدافراد ہلاک ہو گئے۔ حلب کے باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں ہونے والے پہلے بیرل بم حملے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تعداد بچوں کی بتائی جاتی ہے۔

دوسری جانب حکومت اور باغیوں کے درمیان معاہدے اور حکومتی فورسز کے محاصرے کے خاتمے کے بعد دمشق کے مضافاتی علاقے داریا سے لوگوں کا انخلا جاری ہے اور وہاں سے مزید رہائشیوں کی نقل مکانی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

معاہدے کے بعد کہا جا رہا ہے کہ صدر اسد کے مخالف سینکڑوں باغی اور ان کے خاندان اس علاقے میں واپس آنا شروع ہو گئے ہیں جو باغیوں کے زیر تسلط ہے۔

تازہ ترین بم حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب شام میں جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں ایک مرتبہ پر عروج پر ہیں ۔

جمعے کو امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لیوروو اور ان کے درمیان ہونے والی بات چیت میں ’یہ طے پا گیا ہے کہ شام میں جنگ بندی کے حوالے سے جاری بات چیت کی سمت کیا ہو گی‘ تاہم جان کیری کا کہنا تھا کہ ابھی تک ’کچھ باریک مسائل‘ طے ہونا باقی ہیں۔

مذاکرات کے بعد روسی وزیر خارجہ سرگئی لیورو کا کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے ’باہمی عدم اعتماد میں کمی‘ کی ہے۔

یاد رہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی میں امریکہ باغیوں کی حمایت کرتاچلا آیا ہے جبکہ صدر بشارالاسد کو روس کی حمایت حاصل ہے۔

روس اور امریکہ کے درمیان شام کے حوالے سے بات چیت جنیوا میں جاری ہے۔

اس سے قبل جمعے کو شام میں فریقین کے درمیان چار سالہ محاصرہ ختم کرنے پر اتقاق کے بعد داریا شہر سے شہریوں اور باغی جنگجوؤں کا انخلا شروع ہوگیا تھا۔

جب پھنسے ہزاروں شہریوں سے بھری پہلی بس درایا سے روانہ ہو ئی تو ایمبولنسیں اور ہلالِ احمر کی گاڑیاں اس کے ہمراہ تھیں۔

باغی جنگجو باغیوں کے زیر کنٹرول شہر ادلب جا رہے ہیں جبکہ عام شہریوں کو حکومت کی طرف سے قائم کردہ امدادی کیمپوں میں لے جایا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں