کینیڈا: بزرگ جوڑا علیحدہ رہنے پر مجبور

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس تصویر کو چھ ہزار بار آن لائن پر شیئر کیا گیا ہے

کینیڈا میں گذشتہ 62 برسوں سے ساتھ رہنے والے ایک بزرگ میاں بیوی کی جوڑی پچھلے کئی ماہ سے الگ الگ کیئر ہومز میں رہنے پر مجبور ہے۔

83 سالہ گوٹچاک اولفرام اور 81 برس کی ان کی بیوی انیتا کی تصویر جب ان کی پوتی نے سوشل میڈیا پر شیئر کی تو وہ وائرل ہوگئی۔

29 سالہ اشلے بائرک کا کہنا ہے کہ چونکہ برٹش کولمبیا کے سرے علاقے میں ان کے دادا دادی کے لیے ایک ہی کیئر ہوم میں کمرہ دستیاب نہیں ہے اس لیے وہ الگ الگ رہنے پر مجبور ہیں۔

مسٹر گوٹچاک بھی کافی دنوں سے اس انتظار میں ہیں کہ انھیں کب اس مکان میں منتقل کیا جائے گا جس میں ان کی اہلیہ کو ٹھہرایا گیا ہے۔

گذشتہ منگل کو بائرک نے اپنے دادا دادی کی، ’اومی اینڈ اوپی‘ کے نام سے ایک بڑی جذباتی تصویر پوسٹ کی جس میں دونوں اپنے آنسو پوچھ رہے ہیں۔

انھوں نے لکھا کہ ’میں نے جو فوٹو لیے ہیں ان میں سے یہ سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کائیلا بائرک اپنے دادا دی کے ساتھ

اس تصویر کو چھ ہزار بار آن لائن پر شیئر کیا گیا ہے۔

ان کی پوتی بائرک کا کہنا ہے کہ دادا کو دل کی بیماری ہے جس کے علاج کے لیے انھیں جنوری میں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا اسی کے بعد سے وہ دادی سے الگ رہنے پر مجبور ہوئے۔

دادی نے بھی اسی نرسنگ ہوم میں اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کے لیے درخواست دی تھی لیکن اس طرح کا کمرہ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے وہ علحیدہ رہنے پر مجبور ہیں۔

محترمہ بائرک نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرے دادا دادی کے لیے یہ بڑی تکلیف دہ بات ہے، وہ اپنے شوہر کو ہر روز اپنے گھر لانا چاہتی ہیں۔‘

میاں بیوی دونوں تقریباً آٹھ ماہ سے الگ الگ رہنے پر مجبور ہیں اور جب دونوں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو رونے لگتے ہیں۔

بائرک کا کہنا کہ جب انھیں اسی ہفتے پتہ چلا کہ ان کے دادا کینسر میں مبتلا ہیں تو انھوں نے جوڑے کو ایک ساتھ رکھنے کے لیے فوری ضرورت کے تحت مدد کے لیے فیس بک پر اپیل کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption خاندان فیس بک پر ملنے والی حمایت سے بہت خوش ہے لیکن اس نے اس سلسلے میں کسی بھی طرح کا فنڈ لینے سے انکار کر دیا

ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت میں بہت کام باقی رہتا ہے اور تاخیر کی وجہ سے ہی وہ الگ الگ رہنے پر مجبور ہیں۔

بائرک کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں فریزر ہیلتھ سے کئی بار گذارش بھی کی گئی تاہم اب تک کوئی جواب نہیں ملا تھا لیکن جمعرات کو ایک خاتون ترجمان نے انھیں فون کرکے بتایا ہے کہ ان کی دادی کے لیے ایک بیڈ کا انتظام ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

خاندان فیس بک پر ملنے والی حمایت سے بہت خوش ہے لیکن اس نے اس سلسلے میں کسی بھی طرح کا فنڈ لینے سے منع کر دیا اور کہا کہ اس سے کینیڈا میں بزرگوں کی دیکھ بھال کا جو نظام ہے اس سے لوگوں کی توجہ ہٹ جائے گی۔

بائرک کہتی ہیں کہ اس سے وہ مقصد فوت ہوجائے گا کہ جس کے پاس ایسے کیئر ہومز میں نجی بیڈ لینے کی سکت نہیں ہے وہ کہاں جائیں گے اور ان کا کیا ہوگا؟

’ہم چاہتے ہیں کہ ہم سب کی توجہ اس بات پر ہو کہ ہمارے نظام میں جو خامیاں ہیں انھیں درست کریں فنڈ لینے سے یہ بات نہیں بنے گی۔‘

اسی بارے میں