’نیویارک ٹیکسی ڈرائیور کےلیےانگلش جاننا ضروری نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیویارک شہر میں ٹیکسی چلانے والوں کی تعداد پچاس ہزار سے زیادہ ہے. اور ان میں صرف چار فیصد امریکہ میں پیدا ہوئے ہیں

نیو یارک میں اب ٹیکسی ڈرائیوروں کو سرکاری طور پر لائسنس لینے کے لیے انگریزی کے امتحان کی شرط ہٹا دی گی ہے.

جنوبی ایشیا کے ملک جیسے پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سے آ کر نیویارک میں ٹیکسی چلانے والے لوگوں کو اس قانون سے ڈرائیونگ لائسنس لینے میں آسانی ہونے کا امید کی جا رہی ہے. لیکن اس معاملے میں کئی لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ انگریزی کے بغیر امریکہ میں گزارا ہونا مشکل ہے۔

شہر کے جیکسن ہائٹس علاقے میں اے جے گوگیا ٹیکسی ڈرائیوروں کا ایک سکول چلاتے ہیں۔

گوگیا کا خیال ہے کی بغیر انگریزی امریکہ میں ٹیکسی نہیں چلائی جا سکتی.

وہ کہتے ہیں ’اس قانون سے آسانی تو کوئی نہیں ہوگی۔ بغیر انگریزی بولے امریکہ میں ٹیکسی کیسے چلائی جا سکتی ہے؟ کیا پاکستان میں بغیر اردو بولے ٹیکسی چلا سکتے ہیں؟ کیا بنگلہ دیش میں بنگلہ زبان بولے بغیر ٹیکسی چلا سکتے ہیں؟ امریکہ میں گاہک انگریزی میں بولیں گے یا اردو میں بات کرینگے؟ میری تو سمجھ سے باہر ہے یہ نیا قانون۔‘

انگریزی کی شرط ہٹانے والے اس نے قانون کے بارے میں شہر انتظامیہ کا موقف ہے کہ چونکہ نیویارک میں غیر ملکی لوگ ہی زیادہ تر ٹیکسی چلاتے ہیں اور انھیں میں سے بہت سے لوگوں کو انگریزی زبا ن اچھی طرح بولنی نہیں آتی ہے اس لیے ان لوگوں کے لائسنس حاصل کرنے میں آسانی کے مقصد سے یہ قدم اٹھایاگیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نیویارک شہر میں ٹیکسی چلانے والوں کی تعداد پچاس ہزار سے زیادہ ہے. اور ان میں صرف چار فیصد امریکہ میں پیدا ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ

نیویارک شہر میں اب تک ٹیکسی ڈرائیوروں کے لائسنس کے لیے جو انگریزی زبان کا امتحان ہوتا تھا اس میں ایسے سوالات بھی شامل ہوتے تھے جن میں انگریزی کی آڈیو کلپ سن کر صحیح جواب چننا ہوتا تھا کہ مسافر کیا کہہ رہا تھا۔

کئی ٹیکسی ڈرائیوروں کا خیال ہے کہ بغیر انگریزی سمجھے اور بولے نیویارک میں ٹیکسی چلانے میں مشکل پیش آئے گی۔

بھارتی نژاد گرپریت سنگھ پچھلے دو سالوں سے نیویارک میں ٹیکسی چلا رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں: ’کہ انگریزی کے بغیر نہ تو پتہ سمجھ میں آئے گا اور نہ ہی مسافر کی بات۔‘

گرپریت کہتے ہیں ’اگر انگریزی آپ کو پڑھنا بھی نہیں آ رہا اور انگریزی سمجھ میں بھی نہیں آ رہی، تو آپ مسافر سے بات کیسے کریں گے۔

نیو یارک میں ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے اب لائسنس کا ٹیسٹ انگریزی کے علاوہ دیگر زبانوں میں بھی گا۔

لیکن کچھ ٹیکسی ڈرائیوروں کو یہ شکایات ہے کہ اب امتحان میں انگریزی ہٹا دی گی تو سوالوں کی تعداد بڑھا دی گی ہے لیکن ٹیسٹ کا دورانیہ نہیں بڑھایاگیا۔

بھارتی نژاد سندیپ سونگھ آجکل ٹیکسی ڈرایور کے لائسنس کے امتحان کی تیاری میں لگے ہیں۔

سندیپ سنگھ کو یہ شکایات ہے کہ اب نقشے کے بارے میں سوالات شامل کر دیے گئےلیکن نیویورک کے میئر کا دفتر اور ٹیکسی کمیشن اب ایک ایسے منصوبے پر بھی کام کر رہے ہیں جس کے تحت سبھی ٹیکسی ڈرائیوروں کو ان کے کام سے متعلق انگریزی زبان سکھائی جائےگی۔