قتل کے منصوبے کا بیان: ’ریاض اپنا سفیر تبدیل کرے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گذشتہ سال دسمبر میں سعودی عرب نے 25 سال کے بعد بغداد میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولا تھا

عراق کی وزارت خارجہ نے سعودی عرب سے بغداد میں تعینات سعودی سفیر ثمر الشعبان کی تبدیلی کے لیے باضابطہ درخواست کر دی ہے۔

ثمر الشعبان کی جانب سے عراق میں ایرانی مداخلت کے حوالے سے دیے گئے ایک بیان کے بعد عراق کے شیعہ سیاست دان تسلسل سے انھیں ملک بدر کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

٭ 25 سال بعد بغداد میں سعودی سفارت خانہ کھل گیا

٭ شام میں امن، سعودی دباؤ کتنا کارآمد؟

٭ دہشت گردی کے خلاف 34 اسلامی ممالک کا فوجی اتحاد

عراقی وزارت خارجہ کے ترجمان احمد جمال نے امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ان کی حکومت نے بغداد میں تعینات سعودی سفیر ثمر الشعبان کی تبدیلی کے لیے باضابطہ درخواست کی ہے۔

احمد جمال کا کہنا تھا کہ ثمر الشعبان کا بیان سچائی پر مشتمل نہیں تھا اور اس سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات عراق کے اندرونی معاملات میں مداخلت تصور کیے گئے ہیں اور ثمر الشعبان کی جانب سے کیے گئے دعوؤں کا ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سنہ 2011 میں امریکی حکام کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس وقت واشنگٹن میں تعینات سعودی سفیر کو قتل کرنے کا ایرانی منصوبہ ناکام بنایا تھا۔

ثمر الشعبان کا یہ بیان سعودی عرب کے اخبار الحیات میں شائع ہوا تھا جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ عراقی انٹیلی جنس نے انھیں قتل کے منصوبے کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ ہو رہا تھا جبکہ ایران عراق اور دیگر عرب ممالک میں اصلاحات کی کوششوں کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سعودی عرب کے نیوز چینل العریبیہ نے ثمر الشعبان کے حوالے سے بتایا کہ ان دھمکیوں کے پیچھے ’شدت پسند فرقہ وارانہ گروہ‘ کا ہاتھ ہے۔العریبیہ کی جانب سے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ عراق کی ایرانی حمایت یافتہ پاپولر موبیلائزیشن کمیٹی کی اہم شخصیات قتل کی منصوبہ بندی کے پیچھے ہیں اور انھوں نے الشعبان کے ملک بدر کرنے کے حوالے سے عراقی وزارت خارجہ کو ڈیڈ لائن دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سعودی عرب طویل عرصہ سے عراق پر اپنے علاقائی حریف ایران کے بہت زیادہ قریب ہونے کا الزام عائد کرتا رہا ہے

عراقی چینل وصل ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے عراقی ملیشیا ابو الفضل العباس کے سربراہ اوس الخفاجی نے کہا کہ عراق میں بہت سارے دھڑے ثمر الشعبان کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر الشعبان کو عراق میں قتل کر دیا جاتا ہے، بہت سارے دھڑے اس میں ملوث ہونے کا اقرار کریں گے، خاص طور پر اس لیے کہ وہ مطلوب ہیں۔۔۔ ہم نے واضح طور پر کہا ہے ہم الشعبان کی عراق میں موجودگی نہیں چاہتے۔ ‘

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق شیعہ ملیشیا کے سنیوں کے تعلقات کشیدگی کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں سعودی عرب نے 25 سال کے بعد بغداد میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولا تھا۔

اس موقع پر امید ظاہر کی گئی تھی کہ بغداد میں سعودی سفارت خانے کے دوبارہ کھلنے سے دونوں ممالک کے مابین دہشت گردی سے نبردآزما ہونے کے حوالے سے تعاون بڑھے گا۔

سنہ 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد سعودی عرب نے بغداد میں قائم اپنا سفارت خانہ بند کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ سعودی عرب طویل عرصہ سے عراق پر اپنے علاقائی حریف ایران کے بہت زیادہ قریب ہونے کا الزام عائد کرتا رہا ہے جبکہ عراق اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

اسی بارے میں