شام میں ترکی کے فضائی حملے میں 25 شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے کہا ہے کہ ترکی شام میں کرد جنگجوؤں کے ساتھ اُسی عزم سے لڑے گا جیسے وہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے لڑ رہا ہے۔

اتور کو صدر اردغان نے جنوبی شہر غازی عنتب کا دور کیا جہاں گذشتہ ہفتے ایک خود کش دھماکے 50 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔

دوسری جانب ترکی کی افواج نے شام میں جرابلس کے قریب کرد علاقوں میں بمباری کی ہے جس میں 25 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ترکی کی فوج کا کہنا ہے کہ فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے کرد شدت پسند تھے۔

ایک جائزہ گروپ کے مطابق شام میں ترکی کے ایک دوسرے فضائی حملے میں 35 عام شہری ہلاک اور چار شدت پسند مارے گئے ہیں۔

یہ فضائی حملے ترکی کی جانب سے شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ اور کر جنگجوؤں کے خلاف شروع ہونے والے آپریشن کے پانچویں روز کیے گئے۔

غازی عنتب کے دورے کے دوران ترک صدر نے کہا کہ ’ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف آپریشن اُن کے خاتمے تک جاری رہے گا۔‘

ترکی کی افواج نے شامی باغیوں کی حمایت سے دولت اسلامیہ کو پسپا کیا ہے اور اُن کی کرد جنگجوؤں سے بھی جھڑپیں جاری ہیں۔

یاد رہے کہ کرد ملیشیا کو امریکہ کی حمایت حاصل ہے اور وہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

سیئرین آوبزیرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق جبل الکوثہ کے قریب فضائی بمباری میں 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ایک دوسرے واقعے 15 افراد مارے گئے ہیں۔

ترکی کی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اُس نے 25 کرد جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے جو پی وائی ڈی کے اراکین تھے۔

جبل الکوثہ کا علاقہ شام کے سرحدی شہر جرابلس سے 14 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور اس علاقے میں کرد افواج اور مقامی جنگجوؤں کا کنٹرول ہے۔

سنیچر کو ترکی کے ٹینک پر راکٹ داغا گیا تھا جس سے ترکی کا ایک فوجی ہلاک ہو گیا تھا۔ ترکی نے راکٹ حملے کا الزام کرد ملیشیا پر عائد کیا تھا۔

اسی بارے میں