جیلما روسیف کا سینیٹ کے روبرو دفاع

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption صدر روسیف پر ملک کے بجٹ کے اعدادوشمار میں ہیرا پھیرا کا الزام ہے

اپنے عہدے سے معطل ہونے والی برازیل کی صدر جیلما روسیف نے ملکی ایوان بالا کی جانب سے کی جانے والی ان کے مواخذے کارروائی کے سلسلے میں پیر کو سینٹ کے سامنے اپنا بھرپور دفاع کیا ہے۔

صدر روسیف پر ملک کے بجٹ کے اعدادوشمار میں ہیرا پھیری کا الزام ہے۔

مواخذے کی کارروائی کا سامنا کرنے والی صدر روسیف کا کہنا تھا کہ ان کا ضمیر مطمئن ہے اور انھوں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔

رواں ہفتے ملک کی سینٹ کے اراکین اپنے ووٹ کے ذریعے یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا صدر روسیف کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا جائے یا پھر انھیں بحال کر دیا جائے۔

صدر روسیف نے سینیٹروں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ پانچ کروڑ سے زیادہ ووٹروں نے انھیں صدر منتخب کیا ہے۔

اس موقعے پر انھیں نے اپنا بھرپور دفاع کرنے کا اعادہ کرتے ہوئے مواخذے کی کارروائی کو اپنی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش قرار دیا۔

روسیف کا کہنا تھا کہ ان پر وہ الزامات لگائے جا رہے ہیں جن سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

برازیل کی صدر نے کہا کہ اس ساری کارروائی سے نا انصافی جھلکتی ہے۔

خیال رہے کہ انھیں صدر کے عہدے سے برطرف کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سینٹ 81 اراکین میں سے 54 ان کی برطرفی کے حق میں ووٹ ڈالیں۔

ادھر برازیل کے ایک اخبار’فولا ڈی سا پاولو ‘ کے مطابق اس نے مواخذے کی کارروائی کے سلسلے میں تمام سینیٹروں سے بات کی ہے اور 52 سینیٹروں کا کہنا ہے کہ وہ صدر کے مواخذے کے حق میں ووٹ ڈالیں گے۔

اخبار کے مطابق 18 اراکین کا کہنا ہے کہ وہ مواخذے کے خلاف ووٹ دیں گے اور 11 سینیٹروں نے کوئی بھی موقف دینے سے انکار کیا ہے۔

جیلما روسیف نے اس سے قبل یہ اشارہ دیا تھا کہ مردوں سے حاوی کانگریس نے ان کے خلاف مواخذے کے عمل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

یاد رہے کہ اگر صدر جیلما روسیف کے خلاف موخذے کی کارروائی کامیاب ہوجاتی ہے تو قائم مقام صدر مائیکل ٹیمر 2018 کے انتخابات تک ملک کے صدر رہیں گے۔

اسی بارے میں