آئرلینڈ ایپل سے 13 ارب یورو وصول کرے: یورپی کمیشن

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایپل اور آئرلینڈ دونوں ہی اس فیصلے سے متفق نہیں اور اس کے خلاف اپیل میں جانے کا اعلان کرچکے ہیں

یورپی کمیشن نے فیصلہ دیا ہے کہ آئرلینڈ امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل سے پچھلے ٹیکسوں کی مد میں 13 ارب یورو وصول کرے۔

کمیشن کی جانب سے تین سال جاری رہنے والی تحقیات میں ایپل کے ٹیکس فوائد کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہے۔

امریکہ وزارت خارجہ نےگزشتہ ہفتے کہا تھا کہ یورپی کمیشن ایک بین الاقوامی ٹیکس محکمہ بنتا جا رہا ہے جو رکن ممالک کے ٹیکس قوانین میں مداخلت کر کے انھیں بےاثر بنا رہا ہے۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ آئرلینڈ نے ایپل کو دوسرے کاروباروں اور کمپنیوں کے مقابلے میں بہت کم ٹیکس دینے کا موقع فراہم کیا اور وہ تقریباً ایک فیصد شرح کے مطابق کاروباری ٹیکس ادا کر رہی تھی۔

تاہم ایپل اور آئرلینڈ دونوں ہی اس فیصلے سے متفق نہیں اور اس کے خلاف اپیل میں جانے کا اعلان کرچکے ہیں۔

یورپی کمشنرمارگریتھ ویسٹیگر کا کہنا تھا کہ ممبر ملک محضوص کمپنیوں کو ٹیکس میں چھوٹ نہیں دے سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کمیشن کی تحقیقات سے یہ امر سامنے آیا ہے کہ آئرلینڈ نے ایپل کو غیرقانونی ٹیکس فوائد دیے، جس کی وجہ سے وہ برسوں سے دیگر کاروباروں کی مقابلے کافی حد تک کم ٹیکس ادا کرنے کا موقع ملا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یورپین کمشنرمارگریتھ ویسٹیگر کا کہنا تھا کہ ممبر ملک محضوص کمپنیوں کو ٹیکس میں چھوٹ نہیں دے سکتے

آئرش کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 5۔12 فیصد ہے۔ کمیشن کی تحقیقات کے مطابق ایپل نے اپنے یورپی منافعوں پر سنہ 2003 میں ایک فیصد اور سنہ 2015 میں 005۔0 فیصد ٹیکس ادا کیا۔

ایپل کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ملازمتوں کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

ایپل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کمیشن کا کیس یہ نہیں کہ ایپل نے کتنا ٹیکس دیا، یہ معاملہ اس سے متعلق ہے کہ کس حکومت نے کتنا ٹیکس جمع کیا۔ اس سے یورپ میں سرمایہ کاری اور ملازمتوں کے مواقعوں پر نقصان دہ اثر ہو سکتا ہے۔‘

’جہاں کہیں بھی ہم کام کرتے ہیں وہاں ایپل قوانین کی پاسداری کرتا ہے اور ٹیکس ادا کرتا ہے۔ ہم اپیل کریں گے اور ہم پراعتماد ہیں کہ یہ فیصلہ تبدیل کر دیا جائے گا۔‘

آئرش حکومت کی جانب سے بھی ایسے ہی ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔

آئرلینڈ کے وزیرخزانہ مائیکل نونن کی جانب سے جاری کردی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’میں کمیشن سے بالکل اتفاق نہیں کرتا۔‘

خیال رہے کہ آئرلینڈ میں ایپل کے ٹیکسوں کے معاملے پر تین سال سے تحقیقات جاری تھیں، جسے یورپی یونین نے غیرقانونی قرار دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES
Image caption امریکی وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ یورپی کمیشن امریکی کمپنیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہا ہے

یورپی یونین کے ٹیکس قوانین کے تحت ملکی ٹیکس حکام منتخب کمپنیوں کو ٹیکس کی چھوٹ دینے کے مجاز نہیں ہیں۔ یورپی یونین اسے غیرقانونی حکومتی امداد قرار دیتی ہے۔

یورپی یونین کے حکام کے مطابق 1991 اور 2007 میں آئرلینڈ کی حکومت نے جو فیصلے کیے ان کے تحت ایپل کو آئرلینڈ میں ٹیکس کی رقم بچانے کا موقع مل گیا۔

ایپل کمپنی کی ساخت کی وجہ سے اسے قانونی طریقے سے ٹیکس بچانے اور اس چھوٹ سے فائدہ اٹھانے کے لیے بین الاقوامی فروخت آئرلینڈ سے گذارنے کا موقع ملا۔

دوسری جانب ایپل اور دوسری امریکی کمپنیوں کے خلاف اس طرح کی تحقیقات پر امریکہ نے تنقید کی ہے۔

گذشتہ ہفتے امریکی وزارتِ خزانہ نے کہا تھا کہ یورپی کمیشن ایک بین الاقوامی ٹیکس محکمہ بنتا جا رہا ہے جو رکن ممالک کے ٹیکس قوانین میں مداخلت کر کے انھیں بےاثر بنا رہا ہے۔

امریکی وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ یورپی کمیشن امریکی کمپنیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہا ہے، اور اس کی جانب سے عائد کردہ جرمانے ’سخت تشویش ناک‘ ہیں۔

اسی بارے میں