کیلیفورنیا: جنسی حملے سے متعلق قانونی سقم دُور

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جون میں 20 سالہ براک ٹرنر کو یونیورسٹی کیمپس میں ایک بے ہوش خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے پر چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی

کیلی فورنیا میں قانون سازوں نے اس قانونی سقم کو دور کر دیا ہے جس کے مطابق جنسی حملے کے دوران اگر متاثرہ فرد مزاحمت نہ کرے تو حملہ آور کی سزا میں نرمی برتی جاتی ہے۔

قانون میں یہ تبدیلی رواں برس سٹینفورڈ میں پیش آنے والے ایک ہائی پروفائل جنسی حملے کے واقعے کے بعد لائی گئی ہے۔

* ریپ کے مجرم کو چھ ماہ قید پر شور

جون میں 20 سالہ بروک ٹرنر کو یونیورسٹی کیمپس میں ایک بے ہوش خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے پر چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس سزا پر یہ کہتے ہوئے بڑے پیمانے پر تنقید کی گئی تھی کہ اس میں نرمی برتی گئی ہے۔

کیلیفورنیا میں جبری جنسی حملے کی سزا پر قید کی لازم سزا ہے تاہم جہاں زبردستی نہ کی گئی ہو متاثرہ فرد اپنے دفاع کے قابل نہ ہو اس میں کوئی لازم سزا کا تعین نہیں کیا گیا تھا۔

ریاست کی اسمبلی کے ارکان نے متفقہ طور پر قانون میں اس تبدیلی کی منظوری دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایک رکنِ اسمبلی ایون لو کا کہنا تھا ’ریپ ریپ ہوتا ہے۔ اور بروک ٹرنر جیسے لوگوں محض ہاتھ پر تھپڑ مار کر نہیں چھوڑنا چاہیے‘

یہ بل گورنر جیری براؤن کے پاس منظوری کے لیے بجھوا دیاگیا ہے تاہم ابھی انھوں نے اس پر دستخط نہیں کیے۔

ٹرنر کو سزا سنانے والے جج نے استغاثہ کی جانب سے چھ سال قید کے مطالبے پر تشویش ظاہر کی تھی کہ اس قید سے ٹرنر پر برا اثر پڑے گا اور اس کا غیر مجرمانہ ماضی اس کم سزا کا باعث بنا۔

ٹرنر کے والد کی وہ بیان بھی تنازع کا باعث بنا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ان کے بیٹے کو ’20 منٹ کا فعل کے لیے اتنی لمبی جیل نہیں ہونی چاہیے۔‘

امکان ہے کہ ٹرنر کو اپنی سزا کا نصف کاٹنے کے بعد اگلے ہفتے رہا کر دیا جائے گا۔

ایک رکنِ اسمبلی ایون لو کا کہنا تھا ’ریپ ریپ ہوتا ہے۔ اور بروک ٹرنر جیسے لوگوں محض ہاتھ پر تھپڑ مار کر نہیں چھوڑنا چاہیے۔‘

اسی بارے میں