دولتِ اسلامیہ کے اہم رہنما ’شام میں ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ Dabiq

خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم سے منسلک نیوز ایجنسی اعماق نے کہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے اہم رہنما ابو محمد عدنانی شام کے شہر حلب میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

اعماق نیوز ایجنسی نے ایک بیان میں دولتِ اسلامیہ کے حامیوں کو بتایا کہ ابو محمد عدنانی شام کے شہر حلب میں ہلاک ہوئے۔

٭ شام میں ترکی کے فضائی حملے میں 25 شدت پسند ہلاک

٭ شام میں باغیوں نے حلب کا ’حکومتی محاصرہ‘ توڑ دی

اعماق نیوز ایجنسی کے مطابق ابو محمد عدنانی حلب کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کو پسپا کرنے کے دوران ’شہید‘ ہوئے۔

بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ عدنانی کی ہلاکت کیسے ہوئی تاہم ایک امریکی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا امریکہ نے منگل کو حلب میں کیے جانے والے ایک فضائی حملے میں دولتِ اسلامیہ کے ’سینئیر رہنما‘ کو نشانہ بنایا۔

ان کا مذید کہنا تھا ’پینٹاگون اب بھی آپریشن کے نتائج کا جائزہ لے رہا ہے۔‘

خیال رہے کہ عدنانی مغربی ممالک کے خلاف سخت موقف رکھتے تھے۔

انھیں یورپ اور دوسرے مقامات پر حملوں کا ماسٹر مائنڈ بھی کہا جاتا تھا۔

ابو محمد عدنانی کی ہلاکت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دولتِ اسلامیہ کو شام اور عراق میں فوجی پسائی ہوئی ہے۔

ایک امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ امریکہ کی اتحادی افواج نے منگل کو حلب میں کیے جانے والے ایک فضائی حملے میں دولتِ اسلامیہ کے ’سینئیر رہنما‘ کو نشانہ بنایا تاہم انھوں نے عدنانی کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی۔

خیال رہے کہ امریکہ نے عدنانی کے سر کی قیمت 50 لاکھ ڈالر مقرر کی تھی۔

عدنانی نے مئی میں ایک آڈیو پیغام میں مسلمانوں سے مغربی ممالک میں حملے کرنے کی اپیل کی تھی۔

سنہ 1977 میں شام میں پیدا ہونے والے ابو محمد عدنانی دولتِ اسلامیہ کے سینئیر ترین اور اس کے لیے طویل عرصے تک کام کرنے والے رہنما تھے۔

اسی بارے میں