میری جگہ کسی پناہ گزین کو دے دیں: آسٹریلوی جج

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption آسٹریلیا پہنچنے والے تارکینِ وطن اور پناہ گزینوں کو بحرالکاہل میں نورو جزیرے اور پاپا نیوگِنی میں مینس نامی جزیرے پر کیمپوں میں رکھا جاتا ہے جہاں ان کی آسٹریلیا میں پناہ کی درخواستوں کی چھان بین کی جاتی ہے

آسٹریلیا میں ایک ریٹائرڈ جج نے ملک میں آنے والے پناہ گزینوں کے کیمپوں کے خراب حالات کے پیشِ نظر کسی ایک پناہ گزین کے بدلے خود اس کیمپ میں اپنی زندگی گزارنے کی پیشکش کی ہے۔

88 سالہ جم میکن کا کہنا ہے کہ انھوں نے امیگریشن کے وزیر پیٹر ڈٹن کو خط لکھا ہے جس میں انھوں نے پیشکش کی ہے کہ ان کے بدلے کسی پناہ گزین کو آسٹریلیا میں جگہ دے دی جائے اور وہ خود اپنی بقیہ زندگی پناہ گزینوں کے کیمپ میں گزارنے کو تیار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ایک غیر عمومی درخواست ہے تاہم وہ یہ پیشکش مکمل نیک نیتی کے ساتھ کر رہے ہیں۔

آسٹریلیا پہنچنے والے تارکینِ وطن اور پناہ گزینوں کو بحرالکاہل میں نورو جزیرے اور پاپا نیوگِنی میں مینس نامی جزیرے پر کیمپوں میں رکھا جاتا ہے جہاں ان کی آسٹریلیا میں پناہ کی درخواستوں کی چھان بین کی جاتی ہے۔ یہ کیمپ نجی کمپنیوں کے زیرِ انتظام ہوتے ہیں اور آسٹریلوی حکومت کو اِن کیمپوں کی خراب صورتحال کی وجہ سےشدید تنقید کا سامنا ہے۔

آسٹریلوی ذرائع ابلاغ کے مطابق جم میکن کی جانب سے بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ’یہ پیشکش کرنے کا میرا مقصد انتہائی سادہ ہے۔ میں اب اور خاموش نہیں رہ سکتا جبکہ معصوم مردوں، عورتوں اور بچوں کو انتہائی شرمناک حالات میں نورو جزیرے اور مینس جزیرے پر قید رکھا جا رہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جم میکن نے وزیراعظم میلکم ٹرنبل اور لیبر پارٹی کے رہنما بل شورٹن کو بھی خط لکھے ہیں جہاں انھوں نے دونوں سے تاکید کی کہ وہ انصاف اور ہمدردانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے آسٹریلیا سے باہر ہی ان جزیروں پر پناہ گزینوں کی چھان بین روک دیں

’اور زیادہ شرمناک بات یہ ہے کہ انھیں اس قدر مشکل حالات میں اس لیے رکھا جا رہا ہے تاکہ مزید پناہ گزین اور تارکینِ وطن حفاظت کے لیے آسٹریلیا کا رخ نہ کریں۔ حقیقی طور پر تو آسٹریلوی حکومت ان افراد کو انسانی ڈھالوں کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور یہ انتہائی غیر اخلاقی رویہ ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ آسٹریلوی شہری کی حیثیت سے وہ اپنی نمائندہ حکومت کو یہ کرنے نہیں دے سکتے اور اسی لیے وہ اس بارے میں اب خاموش نہیں رہ سکتے۔

’میں یہ پیشکش کسی ایک پناہ گزین کے لیے مستقبل کے راستے کے لیے طور پر کر رہا ہوں۔ اس کے ذریعے مینس جزیرے یا نورو جزیرے سے کم از کم ایک شخص کو آسٹریلوی شہری بننے کا حق ہوگا۔ میں اس بات میں فخر محسوس کروں گا کہ میں نے اپنے آخری سال اس شخص کے بجائے ان جزائر پر گزارے۔‘

اطلاعات کے مطابق وہ اپنی آسٹریلوی شہریت بھی چھوڑنے کو تیار ہیں۔

پیٹر ڈٹن کی ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کا دفتر اس بات کی تصدیق کر رہا ہے کہ انھیں یہ خط وصول ہوا ہے یا نہیں۔ انھوں نے اس پر مزید بات کرنے سے انکار کیا۔ یاد رہے کہ یہ خط ایک ماہ قبل ارسال کیا گیا تھا۔

جم میکن نے وزیراعظم میلکم ٹرنبل اور لیبر پارٹی کے رہنما بل شورٹن کو بھی خط لکھے ہیں جہاں انھوں نے دونوں سے تاکید کی کہ وہ انصاف اور ہمدردانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے آسٹریلیا سے باہر ہی ان جزیروں پر پناہ گزینوں کی چھان بین روک دیں۔

وزیراعظم کے ترجمان نے بھی اس سلسلے میں بیان دینے سے انکار کیا۔

برطانوی اخبار گارڈیئن سے بات کرتے ہوئے جم مکین نے کہا کہ اس پیشکش میں ان کے لیے کھونے کو کچھ نہیں ہے۔ ’اگر اس سے ایک بھی پناہ گزین ان جزائر سے نکل سکتا ہے اور آسٹریلیا میں ایک نئی زندگی شروع کر سکتا ہے تو میں یہ کرنے کو تیار ہوں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ وہ شہرت کے لیے یہ نہیں کر رہے اور وہ عوام کو بتائے بغیر یہ تبادلہ کرنے کو تیار ہیں۔‘

اسی بارے میں