ازبک صدر کی جگہ کون لے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گلنارہ کریموفا فیشن ڈیزائنر اور گلوکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ کاروباری شخصیت بھی ہیں۔ ان کا شمار ملک کی طاقتور ترین شخصیات میں ہوتا تھا اور انھیں اس عہدے کے لیے تیار کیا جا رہا تھا

ازبکستان کے واحد رہنما اسلام کریموف چل بسے ہیں اور اب تمام تر توجہ اس بات پر مبذول ہو گئی ہے کہ ان کے بعد کون اقتدار سنبھالے گا۔

ایک ہفتہ قبل کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ازبکستان میں اس طرح کی کوئی بحث ہو گی۔ ازبکستان کے آمرانہ نظام میں صدر کریموف کی صحت کے حوالے سے کوئی بھی مسئلہ تسلیم کرنا خطرناک ہو سکتا تھا۔

لیکن کریموف کی بیٹی لولا نے فیس بک پر ایک پیغام شائع کیا جس میں انھوں نے بتایا کہ ان کے والد برین ہیمریج یعنی دماغی نس کے پھٹنے کا شکار ہوئے ہیں۔

تین کروڑ دس لاکھ سے زیادہ آبادی والے اس ملک کو اب ایسی صورت حال کا سامنا ہے جس میں ممکن ہے کہ مستقبل میں ان کے پاس کوئی صدر نہ ہو اور نہ ہی کوئی نامزد جانشین۔

حالیہ برسوں میں کریموف کے بعد اقتدار سنبھالنے والے جانشین کے بارے میں بحث کا مرکزی موضوع کریموف خاندان کی بدعنوانی رہا ہے۔

کچھ سال پہلے تک یہ سمجھا جا رہا تھا کہ کریموف کی بیٹی ہی ان کے بعد صدارت کا عہدہ سنبھالیں گی۔ گلنارہ کریموفا فیشن ڈیزائنر اور گلوکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ کاروباری شخصیت بھی ہیں۔ ان کا شمار ملک کی طاقتور ترین شخصیات میں ہوتا تھا اور انھیں اس عہدے کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔

لیکن گلنارہ کی ساکھ تیزی سے نیچے آئی۔

2013 میں ان پر بدعنوانی کے الزامات لگے جس میں ان کے متعدد کاروبار، جن میں ٹی وی اور ریڈیو سٹیشن شامل تھے، بند کر دیے گئے۔ اس کے علاوہ ان کے خلاف یورپ اور امریکہ میں مالی خوردبرد کرنے کے الزام میں بھی ازبک حکام نے تحقیقات کیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس وقت وہ اپنے گھر میں نظربند ہیں۔

امریکہ کی جارج میسن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ایرک مک گلینچی کہتے ہیں کہ ’گلنارہ اس نظام کی ممنوعہ حد کو پار کر گئی تھیں۔ انھوں نے ملک کی معیشت کے ایک حصے پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ پوری معیشت پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے سمجھوتہ نہیں کیا، اور قانون کا پاس نہیں رکھا۔‘

گلنارہ کے ہاتھ سے جب طاقت جا رہی تھی تو انھوں نے اپنی چھوٹی بہن لولا کریموفا اور ماں پر الزام لگایا کہ وہ ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایک بات تو واضح ہے کہ نئے آنے والے سربراہ ازبکستان کے آمرانہ نظام میں تبدیلی نہیں لانا چاہیں گے

بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ خاندانی دشمنی ملک میں جاری اقتدار کی رسہ کشی کی عکاسی کرتی ہے۔

گلنارہ نے اپنی مصیبتوں کے پیچھے جن لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اب صدر بننے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ ان میں سے ایک رستم عظیموف ہیں جو نائب وزیر اعظم ہونے کے ساتھ ساتھ وزیرِ خزانہ بھی ہیں۔

ان کی تقرری 1998 میں ہوئی تھی اور انھیں صدر اسلام کریموف کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا۔ انھیں مغرب نواز تصور کیا جاتا ہے۔ اس عہدے سے قبل وہ 1990 میں ازبکستان میں تعمیراتی کاموں اور ترقی کے لیے بنائے گئے یورپی بینک کے گورنر تھے۔

سوئٹزرلینڈ میں مقیم ازبک صحافی علی شیر تکسانوف کا موقف ہے کہ رستم عظیموف کے پاس صدر بننے کا اچھا موقع ہے اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ ’تاشقند قبیلے‘ سے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس قبیلے نے ملک کے سارے اہم عہدوں پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ وزارتِ داخلہ سے لے کر سکیورٹی سروسز اور وزارتِ خزانہ وغیرہ۔ یہ قبیلہ ان کے حریف ’سمرقند قبیلے‘ سے زیادہ طاقتور ہے، جس کی سربراہی وزیر اعظم شوکت مرزایوف کرتے ہیں۔

وسطی ایشیا میں قبیلے کسی نیٹ ورک کی طرح کام کرتے ہیں اور یہ علاقائی وفاداریوں پر منحصر ہوتے ہیں۔ ان نیٹ ورکس کو طاقت اور دولت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اور نئے سربراہ کا انتخاب کرتے وقت یہ بہت بااثر ہوتے ہیں۔

لیکن کچھ لوگوں کا یہ بھی موقف ہے کہ 2003 سے وزیر اعظم رہنے والے مرزایوف صدر کریموف کی جگہ لینے کی بہتر پوزیشن میں ہیں۔

ازبک سیاسی تجزیہ کار کمال دین ربیموف فرانس میں پناہ حاصل کرنے سے پہلے صدارتی انتظامیہ کے لیے کام کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اگر آپ یہ دیکھیں کہ کس کے پاس کتنے وسائل ہیں تو مرزایوف کو برتری حاصل ہے۔ وہ اس عہدے پر 13 سال سے فائز ہیں اور انھوں نے تمام اہم عہدوں پر اپنے لوگ مقرر کیے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گلنارا کے ہاتھ سے جب طاقت جارہی تھی تو انھوں نے اپنی چھوٹی بہن لولا ماں پر الزام لگایا کہ وہ ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہیں

مبصرین کا ِخیال ہے کہ سکیورٹی سروسز کے سربراہ اور ماضی میں سوویت یونین کے خفیہ ادارے کے جی بی کے لیے کام کرنے والے رستم عنایتوف اس سلسلے میں اہم ثالثی کردار ادا کریں گے۔

رستم عنایتوف ان لوگوں میں سے ایک ہیں جن پر الزام ہے کہ وہ گلنارہ کو پیش آنے والی مصیبتوں کے ذمہ دار ہیں۔

ایک بات واضح ہے کہ نئے آنے والے سربراہ ازبکستان کے آمرانہ نظام میں تبدیلی نہیں لانا چاہیں گے۔

وہ اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کے لیے ریاست کی طرف سے کیے جانے والے پراپیگینڈے اور جبر پر انحصار کرتے رہیں گے، بالکل اسی طرح جس طرح کریموف 27 سال تک کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں