تارکین وطن کی آمد سےجرمن قوم پرستوں کا عروج

تصویر کے کاپی رائٹ

جاتی ہوئے گرمیوں کے پرسکون موسم میں جرمنی کی شمالی مشرقی علاقے میں الیکشن کے لیے لگائےگئے بل بورڈ ہنگامی پیغامات دے رہے ہیں۔

جرمنی میں انتہائی دائیں بازوں کی جماعت نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے لگائے گئے پوسٹر میں کالے کپڑوں میں ملبوس دو افراد ’ریپ ریفوجی‘ کے الفاظ والی جیکٹ پہنے ہیں اور وہ ایک تقریباً برہنہ خاتون کو عجیب و غریب انداز سے دیکھ رہے ہیں۔

اس بل بورڈ پر ایک پیغام بھی لکھا ہوا ہے۔

وہ جو اینٹی امیگریشن، پنشن سیکورٹی اور جرم میں دلچسپی رکھتے ہیں تو یہ اس بات کا اعلان ہے کہ وہ اتوار کو اے ایف ڈی جماعت کو ووٹ دیں، ’تاکہ جرمنی تباہ نہ ہو۔‘

جرمنی میں اے ایف ڈی پارٹی کا قیام تین سال پہلے ہوا تھا اور یہ ملک میں تیزی سے ترقی کرنے والی سیاسی تحریک بن گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES

اے ایف ڈی جماعت پہلی مرتبہ جرمنی کی جانسلر انگیلا میرکل کی قدامت پرست جماعت کو ایک مشکل وقت دے رہی ہے۔

گذشتہ ماہ برلن میں ہونے والے انتخابات میں بھی کرسچین ڈیموکریٹ کی حمایت میں کمی آئی تھی۔

ستمبر کا مہینہ چانسلر میرکل کے لیے اہم ہو سکتا ہے کیونکہ اس بات پر غور کریں گی کہ آیا آئندہ سال چانسلر کے انتخاب کے لیے چوتھی بار مقابلہ کیا جائے یا نہیں۔

ایک پسماندہ ریاست میں امیگریشن کا یہ پیغام شاید بہت زیادہ موثر کردار ادا نہ کر پائے۔

سنہ 2015 سے اب تک اس ریاست نے 26 ہزار تارکینِ وطن کو پناہ دی ہے۔ گو ایک سال میں جرمنی آنے والے 10 لاکھ افراد میں سے بہت ہی کم افراد یہاں آئے۔

فیڈریش سسٹم کے تحت میکلن برگ میں 2.03 فیصد تارکینِ وطن کو آنا تھا۔ سابق مشرقی جرمنی کا یہ علاقے غریب ہے اور اس کی آبادی بھی کم ہے۔

تارکینِ وطن مخالف نعرے یہاں بھی گونج رہے ہیں اور یہ اے ایف ڈی جماعت کی کامیابی ہے جنھوں نے اپنی مہم اسی بنیاد پر چلائی ہے۔

اے ایف ڈی کی مہم گرویسی کلین میں زور نہیں پکڑ پائی کیونکہ یہاں تارکینِ وطن کی تعداد زیادہ ہے اور خاص کر مسلمان آبادی کی اکثریت ہے۔

پارٹی نے گذشتہ سال ہونے والے اجلاس میں اعلان کیا تھا کہ ’اسلام جرمنی کا حصہ نہیں ہے۔‘ اور انھوں نے برقعہ، مینار اور اذان پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔

سنہ 1992 میں ریاست کے مضافات میں تارکینِ وطن مخالف مظاہرے ہوئے تھا اور پناہ کی درخواست لینے والوں کے اپارٹمنٹ میں پیٹرول بم پھینکے گئے تھے۔

حالیہ ہفتوں کے دوران گرویسی کلین میں ہونے والے ایک مظاہرے میں 15 تارکین وطن لڑکوں کو یوتھ سینیٹرز سے نکالنے کا مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا کہ تارکینِ وطن کے لیے نئے قیام گاہیں نا بنائی جائیں۔

گو کہ ایسی اطلاع نہیں ہے کہ ان مظاہروں میں اے ایف ڈی جماعت کا ہاتھ ہے لیکن جماعت نے موجودہ صورتحال سے بھرپور فائدہ اُٹھایا ہے۔

جولائی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں تارکینِ وطن کی شرکت نے جرمنی بھر میں انھیں سکیورٹی کے لیے لاحق خدشات سے منسلک کر دیا ہے۔

اتوار کو ریاست میں انتخاب ایسے وقت میں ہو رہا جب ایک سال قبل چانسلر میرکل نے ہزاروں تارکینِ وطن کی ٹرینوں کو جرمنی میں داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

یہی وقت مسز میرکل کے کامیاب سیاسی سفر میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا اور اُن کی مخالف اے ایف ڈی جماعت کا سامنے آنا بھی تارکینِ وطن کی آمد کے بعد کے نتائج میں سے ایک ہے۔

اسی بارے میں