ترانےکا احترام نہ کرنے والے کھلاڑی کےخلاف پولیس کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی شہر سان فرانسسکو کی پولیس نے متنبہ کیا ہے کہ اگر سان فرانسسکو کی ٹیم نے اپنے اس کھلاڑی کے خلاف ایکشن نہ لیا جو ترانے کے احترام میں کھڑا نہیں ہوتا تو وہ اس ٹیم کے میچوں کا بائیکاٹ کریں گے۔

یاد رہے کہ امریکی نیشنل فٹبال لیگ کے کھلاڑی کولن كیپرنك نے اپنا احتجاج جاری رکھتے ہوئے دوسری بار قومی ترانے کے احترام میں کھڑے ہونے سے انکار کیا تھا۔

سینٹا کلارا پولیس نے ایک خط میں کہا ہے کہ کولن كیپرنك کے اعمال اور بیانات ’غلط اور توہین آمیز ‘ ہیں۔

اس خط میں سان فرانسسکو کی ٹیم پر الزام لگایا گیا ہے کہ کولن كیپرنك کو ایسا کرنے سے روکنے کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔

سان فرانسسکو 49 کے لیے کھیلنے والے کولن كیپرنك نے ملک میں نسلی امتیاز اور سیاہ فام لوگوں کے ساتھ ہونے والی مبینہ ناانصافیوں کے خلاف احتجاج کیا۔

انھوں نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا: ’میں اس پرچم یا ملک کی تعظیم کے لیے کھڑا نہیں ہوں گا جو سیاہ فاموں اور دوسرے رنگ و نسل کے لوگوں کا استحصال کرتا ہے۔‘

28 سالہ کولن كیپرنك کا کہنا ہے کہ جب تک امریکی میں نسلی روابط میں واضح بہتری نہیں آتی وہ احتجاج کرتے رہیں گے۔

پولیس نے خط میں کہا ہے کہ کولن كیپرنك نے پولیس پر الزام لگایا ہے کہ ’پولیس افسر کو لوگوں کو ہلاک کرنے کی تنخواہ ملتی ہے‘۔

خط میں سان فرانسسکو کی ٹیم پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ کولن كیپرنك اجازت دیتی ہے کہ وہ موزے پہنے جس پر ایک خنزیر پولیس کی ٹوپی پہنے ہوئے ہے۔

خط میں کہا گیا ہے ’اگر سان فرانسسکو 49 کی ٹیم کولن كیپرنك کےخلاف کوئی کارروائی کرنے میں ناکام رہی تو پولیس افسران کے پاس یہ حق ہو گا کہ وہ اس ٹیم کی جگہوں میں کام نہ کرے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

واضح رہے کہ میچوں کے دوران سان فرانسسکو 49 کے سٹیڈیم میں تقریباً 70 پولیس اہلکار گشت کرتے ہیں۔

کولن كیپرنك نے میڈیا سے بات چيت میں کہا کہ ’میری اس مخالفت کو اگر دوسرے انداز سے دیکھیں تو یہ خود غرضی ہوگی لیکن ایسا کرنا میرے لیے فٹبال سے بھی بڑا کام ہے۔‘

کئی افراد نے کولن كیپرنك کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ محبِ وطن نہیں ہیں اور انھوں نے اُن افراد کی بےحرمتی کی ہے جو اس ملک کی خاطر جان دینا چاہتے ہیں۔

جمعہ کے روز ایک آن لائن پٹیشن کا بھی آغاز کیا گیا جس میں نیشنل فٹ بال لیگ سے کولن كیپرنك کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس پٹیشن پر اب تک 53 ہزار افراد شامل ہو چکے ہیں۔

این ایف ایل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ ترانے کی تعظیم میں کھڑے ہوں لیکن ایسا کرنا لازمی نہیں ہے۔

اسی بارے میں