ایجنسی کی طنزیہ ٹویٹ پر چین، امریکہ تنازع

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY

امریکہ کی ڈیفنس انٹیلیجس ایجنسی کے اکاؤنٹ سے چین کے بارے میں ایک طنزیہ ٹویٹ پر جی 20 کانفرنس کے پرٹوکول سے متعلق ایک تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

ایک ٹویٹ میں، جسے جلد ہی ٹائم لائن سے ہٹا دیا گیا تھا، صدر اوباما کے لیے چین میں ہونے والے پروٹوکول انتظامات کی طنزیہ انداز میں تعریف کی گئی تھی۔

صدر اوبامہ جب جی 20 گروپ کے اجلاس میں شرکت کے لیے چین کے شہر ہانژوا پہنچے تو ان کے استقبال کے لیے سرخ قالین نہیں بچھایا گیا تھا اور انہیں جہاز کے ایک اور رستے سے باہر جانا پڑا۔

اس بدانتظامی کی امریکی ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی کے اکاؤنٹ سے جاری ہونے والے ایک ٹویٹ میں طنزیہ انداز میں تعریف کی گئی اور اسے شاندار کہا گیا: ’ہمیشہ کی طرح شاندار چین‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

یہ معاملہ اس وجہ سے بھی زیادہ سنگین شکل اختیار کر گیا تھا کیونکہ یہ ٹویٹ اس واقعے کے بارے میں امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی ایک خبر سے لنک کرتا تھا۔

مسافروں کے جہاز سے اترنے والی جگہ پر ایک اور بدمزگی اس وقت پیدا ہوئی جب اخبار نویسوں اور امریکی حکام کو سکیورٹی کے لیے بنایا گیا گھیرا توڑنے کی کوشش کرتا دیکھ کر ایک چینی اہلکار نے چِلا کے کہا کہ ’یہ ہمارا ملک ہے‘۔

ایجنسی نے بعد میں اس ٹویٹ کے جاری ہونے پر معذرت کی جس میں کہا گیا کہ ’آج ہمارے اس اکاؤنٹ سے ایک نیوز آرٹیکل کے بارے میں غلطی سے ایک ٹویٹ جاری ہو گیا تھا جو ایجنسی کے خیالات کی ترجمانی نہیں کرتا۔ ہم اس پر معذرت خواہ ہیں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

صدر اوباما نے اخبار نویسوں سے کہا کہ وہ اس بات کی اہمیت کو بڑھا چڑھا کر نہ بیان کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس جھگڑے سے چین اور امریکہ کے مابین تعلقات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ چین میں ان کی آمد پر تناؤ اس لیے پیدا ہوا کیونکہ امریکہ کا پریس سے متعلق رویہ دیگر ممالک سے مختلف ہے۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق صدر اوباما اور صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات کی جگہ ویسٹ لیک سٹیٹ ہاؤس پر بھی فریقین کے درمیان اس وقت تناؤ پیدا ہو گیا تھا جب دونوں اطراف سے اس بات پر اتفاق نہیں ہو پا رہا تھا کہ صدر اوباما کے آنے سے پہلے کتنے اہلکاروں کو پیشگی اندر جانے دیا جائے۔