ہانگ کانگ:الیکشن میں چین مخالف کارکنان کامیاب

Image caption یہ پہلا موقع ہوگا جب مظاہرہ کرنے والے نوجوان رہنما ناتھن لا حقیقی معنوں میں سیاسی طاقت کا تجربہ کریں گے

ہانگ کانگ میں حالیہ قانون ساز کونسل کے انتخابات کے ابتدائی نتائج سے پتہ چلا ہے کہ اس میں چین مخالف نئی نسل کے کارکنان نے بھی کچھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔

اس میں 2014 میں جمہوریت کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں کی قیادت کرنے والے ایک نوجوان رہنما ناتھن لا بھی شامل ہیں جو ایک حلقے سے انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے قریب ہیں۔

یہ پہلا موقع ہوگا جب مظاہرہ کرنے والے نوجوان رہنما نیتھن لا حقیقی معنوں میں سیاسی طاقت کا تجربہ کریں گے۔

لیکن ہانگ کانگ کے قانون ساز ادارے میں اب بھی چین کے حامی قانون سازوں کی ہی اکثریت ہوگی جس کی ایک وجہ وہاں پر رائج انتخابی طریقہ کار بھی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 23 سالہ ناتھن لا کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال سے ہانگ کانگ کے لوگ حقیقت میں تبدیلی چاہتے تھے، جب مستقبل کی بات آتی ہے تو نوجوان اس میں کسی طرح کی تاخیر نہیں چاہتے۔‘

لا اس ’ڈیموسسٹ‘ پارٹی کے رکن ہیں جسے احتجاج کرنے والے طلبا نے قائم کیا تھا، یہ لوگ ہانگ کانگ کی خود مختاری کی مہم چلاتے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہانگ کانگ میں بہت سے طلبا اور اور نوجوان ناتھن لا کی کامیابی پر انھیں مبارک باد دیتے ہوئے

اب تک 90 فیصد ووٹوں کی گنتی کی جاچکی ہے اورسب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدواروں میں وہ دوسرے نمبر پر ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انھیں قانون ساز ادارے میں سیٹ ملنے والی ہے۔

’ینگ سپائریشن‘ نامی پارٹی کے بھی دو امیدوار ان انتخابات میں کامیابی کی جانب رواں دواں ہیں، یہ پارٹی بھی ہانگ کانگ کی آزادی کی حامی ہے جس کا تعلق امبریلا نام سے ہونے والے احتجاج سے ہی ہے۔

ہانک گانگ میں تقریبا 38 لاکھ رجسٹرڈ ووٹر ہیں جس میں اس بارے کے انتخابات میں تقریبا 58 فیصد لوگوں نے حصہ لیا جبکہ 2008 میں تقریبا 45 فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالے تھے۔

انتخابات کے نتائج میں تھوڑی تاخیر ہوئی ہے اور امکان ہے کہ پیر کی شام تک صورت حال پوری طرح واضح ہوجائےگی۔

2014 میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد سے یہ پہلے انتخابات ہیں، ان مظاہروں میں زیادہ تر نوجوانوں نے حصہ لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Chinese

یہ لوگ ہانگ کانگ میں زیادہ جمہوری حقوق کی بات کر رہے تھے۔ ان کا الزام تھا کہ چین ہانک کانگ میں غیر ضروری مداخلت کرتا ہے۔ تاہم چين نے ان تمام الزامات کو مسترد کر دیا اور مظاہرین کو کوئی بھی رعایت دینے انکار کر دیا تھا۔

ان انتخابات کی بنیاد اس شخص کا انتخاب نہیں ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں حکومت کی باگ ڈور ہوتی ہے بلکہ اس کا انتخاب چين کی جانب سے مقرر کردہ ایک کمیٹی کرتی ہے۔

کئی سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ جس طرح سےانتخابات کے نتائج آئے اس سے ایسا لگتا ہے کہ موجودہ حکمراں سی وائی لینگ کو شاید دوسرا موقع نہ ملے اور ان کی جگہ کسی دوسرے کو ہانگ کانگ کی باگ ڈور سونپی جائے۔

اسی بارے میں