برطانیہ: امیگریشن کے لیے پوائنٹ سسٹم رائج کرنے سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ٹریسا مے برطانیہ کے یورپی یونین میں شامل رہنے کے حق میں تھیں

برطانوی وزیر اعظم ٹریسا مے نے یورپی یونین سے برطانیہ کے انخلا کی مہم کے دوران امیگریشن کے لیے ’پوائنٹ سسٹم‘ متعارف کروانے کے اہم وعدے کو رد کر دیا ہے۔

چین کے دورے کے دوران اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئےٹریسامے نے اس امر کا اعتراف کیا کہ برطانوی عوام نے یورپین یونین سے نکلنے کے حق میں اس لیے ووٹ دیا تھا کیونکہ وہ دوسرے ملکوں سے برطانیہ منتقل ہونے والوں کی تعداد کو ایک حد کے اندر رکھنا چاہتے ہیں۔

٭ ٹریزا مے کون ہیں؟

وزیر اعظم نے پوائنٹس کی بنیاد پر امیگریشن دینے کے نظام کے موثر ہونے پر بھی شک کا اظہار کیا۔

بعد ازاں وزیر اعظم ہاؤس ’ٹین ڈاؤنگ سٹریٹ‘ نے کہا کہ امیگریشن کے مسئلے کے حل کے لیے پوائنٹ سسٹم کوئی متبادل نہیں ہے۔

چین کے شہر ہنگ ژاہون میں منعقد ہونے والے جی 20 کا سربراہی اجلاس وہ پہلی بین الاقوامی کانفرنس ہے جس میں ٹریسا مے بحیثیت وزیراعظم شرکت کر رہی ہیں۔

گو کہ ٹریسا مے برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے کے حق میں تھیں لیکن انھوں نے کہا کہ ریفرینڈم کے فیصلے کی پاسداری کی جانی چاہیے۔

انھوں نے تجویز کیا کہ یورپی یونین سے ہونے والے مذاکرات میں لوگوں کی آزادانہ آمد و رفت ایک سرخ لکیر ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption برطانیہ میں ہونے والے ریفرینڈم میں عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی کا فیصلہ کیا تھا۔

ٹریسا مے نے مزید کہا کہ امیگریشن کے نظام کو سخت بنانے کے لیے ضروری نہیں ہے کہ آسٹریلیا کی طرز پر ’پوائنٹس سسٹم‘ نافذ کیا جا رہا ہے۔

جس کی بنیاد پر یورپی یونین اور دوسرے ملک سے ہر سال ہنر مند اور غیر ہنر مند افراد کے برطانیہ آنے کی تعداد کا تعین کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ اس تعداد کا تعین برطانیہ کےارکان پارلیمان کریں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پوائنٹ سسٹم کے زیادہ سخت ہونے کی وجہ سے تشویش میں مبتلا ہیں تو انھوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ پوائنٹ سسٹم موثر ہے کہ نہیں۔

انھوں نے کہا کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے امیگریشن کے دباؤ کو کم کرنے کا واحد حل پوائنٹ سسٹم ہے۔

ٹریسا مے کے خیال میں امیگریشن کے حل کے لیے کسی کے بھی پاس جادو کی چھڑی نہیں ہے۔ اس کے لیے تمام متبادل طریقوں پر غور کرنا پڑے گا۔

انھوں نے کہا کہ اس سے متعلق تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنے پڑے گا۔

برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صرف برطانیہ آنے والوں کی تعداد کو کنٹرول کرنے کے لیے قوانین تجویز نہیں کرنا پڑیں گے بلکہ ایسے لوگوں کے بارے میں بھی کچھ کرنا پڑے گا جو برطانیہ میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم کے ایک ترجمان نے کہا کہ یورپی یونین سے برطانیہ منتقل ہونے والے لوگوں کے بارے حکومت کیا طریقہ کار اختیار کرے گی اس کا تعین ابھی کیا جانا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ جیسا کے وزیر اعظم کئی مرتبہ کہہ چکی ہیں پوائنٹ سسٹم موثر ثابت نہیں ہو گا اور اس پر غور نہیں کیا جا رہا۔

ٹریسا مے اس سے پہلے بھی کئی انٹرویوز میں یہ بھی کہہ چکی ہیں کہ یورپی یونین سے نکلنے کے بعد جو بچت ہو گی اس میں سے ہر ہفتے دس کڑوڑ پاؤنڈ کی رقم صحت کے نظام ’این ایچ ایس‘ اور بجلی کے بلوں میں ٹیکس میں چھوٹ دینے کے لیے استعمال کی جائے گی۔

اسی بارے میں