خواتین کا تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ ان سنا

Image caption تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ خواتین بھی مردوں ہی کی طرح اپنی اجرت میں اضافے کا مطالبہ کرتی ہیں لیکن انھیں اس میں کامیابی کم ملتی ہے

ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ یہ خیال درست نہیں ہے کہ خواتین کو مردوں کے مقابلے میں کم پیسے اس لیے ملتے ہیں کیونکہ وہ اپنے دفتر یا کام کی جگہ پر بہت زیادہ پرجوشی اور ہمت سے کام نہیں لیتی ہیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ خواتین بھی مردوں ہی کی طرح اپنی اجرت میں اضافے کا مطالبہ کرتی ہیں لیکن انھیں اس میں کامیابی کم ملتی ہے۔

یہ تحقیق کیس بزنس سکول، واروک اور وسکانسین یونیورسٹی نے مشترکہ طور پر کی ہے جس میں 4،600 کام کرنے والوں کا جائزہ لیا گیا۔

اس تحقیق سے اس نظریے کی حمایت نہیں ہوتی کہ خواتین ایسے معاملات میں کم بولتی ہیں اور تنخواہوں میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کرنے کے بجائے وہ اس معاملے میں خاموش رہتی ہیں۔

اس تحقیق کے مطابق اگر مرد اور خواتین دونوں ہی اپنی اجرت میں اضافے کا مطالبہ کریں تو خواتین کے مقابلے میں مردوں کی تنخواہ بڑھنے کا 25 فیصد زیادہ امکان ہوتا ہے۔

اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایسا نہیں ہے کہ خواتین اس ڈر کے سبب تنخواہ بڑھانے کے مطالبے میں دلچسپی نہیں رکھتی کہ انھیں لگتا کہ کہیں اس سے ان کا باس ناراض نہ ہوجائے۔

اس تحقیق کے نتائج کا تجزیہ کرتے وقت محقیقین نے انڈسٹری اور آجر کے سائز کا خیال رکھتے ہوئے اس بات کو بھی دیکھا کہ کام کرنے والے ماں باپ ہیں یا ان کی تعلیمی لیاقت کیا ہے۔

Image caption اس تحقیق کے مطابق اگر مرد اور خواتین دونوں ہی اپنی اجرت میں اضافے کا مطالبہ کریں تو خواتین کے مقابلے میں مردوں کی تنخواہ بڑھنے کا 25 فیصد زیادہ امکان ہوتا ہے

یہ تحقیق 2013 اور 2014 میں آسٹریلیا میں کام کرنے کی جگہوں پر تعلقات سے متعلق کیے گئے ایک سروے کے ڈیٹا پر مبنی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے آسٹریلیا ہی ایک ایسا ملک ہے جہاں پر اس بات کے ریکارڈز باقاعدہ طور جمع کیے جاتے ہیں کہ ملازم نے اپنی تنخواہ میں اضافے کی مانگ کی یا نہیں اور اگر کی تو کس لیے اور اگر نہیں کی تو اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے۔

واروک یونیورسٹی میں شعبہ اقتصادیات کے پروفیسر اینڈریو اوسوالڈ کہتے ہیں کہ ان کے لیے یہ نتائج کافی حیران کن ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’یہ نظریہ بڑا عام سا ہے کہ خواتین اکثر اپنی تنخواہوں میں اضافے کے لیے بات نہیں کرتی ہیں۔ خواتین کے لیے کہنا اور اس پر یقین رکھنا بھی بہت ہی عام بات ہے لیکن اس کے تعلق سے بیشتر شواہد واقعاتی ہیں تو علمی سطح پر اس کا مناسب تجربہ کرنا بہت مشکل کام ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے جن مردوں نے اپنی تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ کیا ہو اور اسے نہ تسلیم کیا گيا ہو اس کے بارے میں وہ خاموش رہے ہوں جبکہ اس کے برعکس خواتین نے اس سلسلے میں جو کچھ بھی ہوا صاف صاف بتا دیا ہو۔

لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس تحقیق سے ایک بات تو صاف ہوجاتی ہے کہ خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے۔

اس تحقیق سے مختلف عمروں کے درمیان بھی فرق پایا گيا۔ مثلا مرد اور خواتین جو 40 برس کے اندر کی تھیں انھوں نے تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ کیا تو ان کی مانگ کو ایک ہی شرح کی مناسبت سے تسلیم کر لیا گيا، یہ شاید اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ان کے بات چيت کا طریقہ تبدیل ہورہا ہے۔

کیس بزنیس سکول کی ڈاکٹر امانڈا جو اس تحقیق کی تصنیف و تالیف میں شامل تھیں کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ اس دور میں نوجوان خواتین اپنی تنخواہ بڑھانے اور حالات کے متعلق بات چیت کرنے میں عمر دراز خواتین سے زیادہ کامیاب ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں