’ترکی اور امریکہ رقہ میں مشترکہ کارروائی کے لیے تیار‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایک اندازے کے مطابق ڈھائی سے پانچ لاکھ کے درمیان افراد اب بھی رقہ میں مقیم ہیں

ترک صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے ترکی اور امریکہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو شام میں اس کے مضبوط ٹھکانے رقہ سے بے دخل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

صدر اردوغان کا کہنا ہے چین میں جی 20 کے اجلاس کے دوران ملاقات میں ان کے امریکی ہم منصب براک اوباما نے جنگجوؤں کے خلاف مشترکہ کارروائی کی تجویز پیش کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی کسی کارروائی سے ترکی کو ’کوئی مسئلہ نہیں‘ ہو گا۔

٭ موصل میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف آپریشن کا آغاز

٭ ترکی کی شامی علاقے میں دولتِ اسلامیہ پر بمباری

٭ ترکی کے مزید ٹینک شام میں داخل

گذشتہ مہینے ترکی نے شام میں آپریشن کا آغاز کیا تھا جس میں دولت اسلامیہ اور کرد باغیوں دونوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

ترک نواز ملیشیا نے سرحدی قصبے جرابلس سے دولت اسلامیہ کو بے دخل کر دیا تھا تاہم ترکی کرد جنگجوؤں کی پیش قدمی کے بارے میں بھی تشویش مند ہے جنھیں وہ دہشت گرد تسلیم کرتا ہے۔

یہ کارروائی جاری ہے جبکہ شامی صدر بشار الاسد کے اتحادی روس کا کہنا ہے کہ وہ ترک فوجوں کے شامی علاقوں میں داخل ہونے کے بارے میں سخت تشویش مند ہے۔

ترک صدر اردوغان کا رقہ کے بارے میں حالیہ بیان ترک ذرائع ابلاغ میں نشر کیا گیا ہے تاہم امریکہ کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

صدر اردوغان کا کہنا تھا کہ ’اوباما رقہ میں مشترکہ طور پر کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے کہا کہ یہ ہمارے تناظر میں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر اردوغان کا کہنا تھا کہ ’اوباما رقہ میں مشترکہ طور پر کچھ کرنا چاہتے ہیں‘

صدر اردوغان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نے کہا تھا کہ ہمارے سپاہیوں کو اکٹھے ہونا چاہیے اور بات چیت کرنا چاہیے، پھر جو کچھ بھی ضروری ہوگا کیا جائے گا۔‘

صدر اردوغان کی جانب سے اس حوالے سے کچھ تفصیل سے آگاہ کیا گیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ مزید بات چیت کی جائے گی۔

خیال رہے کہ شام اور عراق میں دولت اسلامیہ کے پروان چڑھنے میں رقہ پر قبضہ ایک اہم موڑ تھا، اور اس شہر کو اس شدت پسند تنظیم کا دارالحکومت خیال کیا جاتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ڈھائی سے پانچ لاکھ کے درمیان افراد اب بھی اس شہر میں مقیم ہیں اور دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی جانب سے عام شہریوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کی خبریں منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں