کورسیکا میں ’برقینی‘ پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عدالت کا کہنا تھا کہ اگر برقینی پہننے سے عوامی سطح پر کوئی پریشانی ہوتی ہے تو اسے کے لیے مناسب اقدامات کیے جانے چاہیئں

فرانس کے جزیرے کورسیکا میں ایک عدالت نے مسلمان خواتین میں مقبول تیراکی کے مکمل لباس ’برقینی‘ پر پابندی کو برقرار رکھا ہے۔

عدالت نے فیصلہ سنایا کہ عوامی مفاد کے لحاظ سے یہ پابندی قانونی ہے۔

٭ ’پابندی کے بعد برقینی کی فروخت میں 200 فیصد اضافہ‘

گذشتہ ماہ ساحل پر ایک افریقن نژاد خاندان اور چند نوجوانوں میں ہونے والے جھگڑے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے تھے۔

فرانس میں اعلیٰ انتظامی عدالت نے اگست میں فیصلہ سنایا تھا کہ ملک کے متعدد قصبوں میں یہ پابندی بنیادی آزادی کے خلاف ہے۔

تاہم عدالت کا کہنا تھا کہ اگر برقینی پہننے سے عوامی سطح پر کوئی پریشانی ہوتی ہے تو اس کے لیے مناسب اقدامات کیے جانے چاہیئں۔

منگل کو عدالت نے فرانس میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم کی جانب سے اس پابندی کے خلاف اپیل کو خارج کر دیا تھا۔

عدالت نے فیصلہ سنایا کہ یہ پابندی برقرار رہنی چاہیے کیونکہ جزیرے پر اس کے خلاف سخت ردِ عمل ہے۔

14 جولائی کو ایک شخص کی جانب سے 85 افراد کو ٹرک سے کچلنے کے واقعے کے بعد حالیہ مہینوں میں جنوبی فرانس کے علاقوں میں مقامی افراد اور شمالی افریقہ سے نقل مکانی کر کے آنے والے مسلمانوں میں کشیدگی بڑھی ہے

اس حملے کی ذمہ داری دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی۔

اسی بارے میں