یمن میں امریکی حملے، القاعدہ کے 13جنگجو ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا کہ 24 اگست اور 4 سمتبر کے دوران مرکزی یمن کے شبواہ علاقے میں اس کی جانب سے تین فضائی حملے کیے گئے

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے یمن میں تین مختلف فضائی حملوں میں القا‏عدہ کے 13 ارکان کو ہلاک کر دیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا کہ 24 اگست اور چار ستمبر کے دوران مرکزی یمن کے شبواہ نامی علاقے میں اس کی جانب سے تین فضائی حملے کیے گئے۔

بیان میں اس بات کا انکشاف نہیں کیا گیا کہ کس طرح سے القاعدہ کے ہنماؤں کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا اور نہ ہی ہلاک ہونے والوں کی شناخت ظاہر کی گئی ہے۔

یمن میں جاری موجودہ خانہ جنگی سے القاعدہ کو فائدہ پہنچا ہے اور اس نے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ اس علاقے اور دیگر جگہوں پر القاعدہ گروپ سکیورٹی کے لیے اب بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یمن آج کل خانہ جنگی کی صورت حال میں ہے جہاں ایک طرف سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت اور دوسری جانب حوثی باغی ایک دوسرے سے بر سر پیکار ہیں

امریکہ نے اس سے متعلق بیان میں کہا کہ ’یمن کے جزیرہ نما عرب علاقے میں اس طرح کے حملے دہشت گردوں کے نیٹ ورک پر مستقل دباؤ بناتے ہیں اور یہ انھیں امریکی افراد، اندرون ملک، یا پھر اتحادیوں کے خلاف حملے کی منصوبہ سازی کرنے یا پھر نشانہ بنانے سے باز رکھتے ہیں۔‘

یمن آج کل خانہ جنگی کا شکار ہے جہاں سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت حوثی باغیوں سے بر سر پیکار ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس تنازع میں اب تک تقریبا چھ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

تقریباً 25 لاکھ یمنی خانہ جنگی کے سبب بے گھر بھی ہوئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں