شام میں امن کا طویل اور پُرخطر سفر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام میں قتلِ عام اور خوف کے خاتمے کے لیے کسی سیاسی معاہدے کی ضرورت بہت عرصے سے ہے

لندن میں دریائے ٹیمز کے کنارے واقع بین الااقوامی ادارے برائے سٹرٹیجک سٹیڈیز کی عمارت کے پانچویں منزل پر بیٹھ کر شام میں قیامِ امن کے منصوبے کی تقریبِ رونمائی کرنا کافی عجیب سی بات ہے۔

لیکن اعلیٰ سطح کے مذاکراتی کمیشن نے مسئلے کے سیاسی حل کے لیے میڈیا اور سفارت کاروں کو تفصیلات فراہم کیں۔

شام میں قتلِ عام اور خوف کے خاتمے کے لیے کسی سیاسی معاہدے کی ضرورت بہت عرصے سے ہے۔

جنگ شروع ہوئے یہ چھٹا سال ہے۔ جنگ نے لاکھوں کو سڑکوں پر لا پھینکا ہے۔ کئی افراد نے اپنے ہی ملک میں نقل مکانی اور کئی دوسرے ملکوں میں تارکینِ وطن بن گئے اور درحقیقت کتنے افراد ہلاک ہوئے اس کا پتہ لگانا مشکل ہے۔

اصل خوفناک بات یہ ہے کہ لڑائی ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ یہ جاری ہے اور بیرونی طاقتیں بھی اس میں شامل ہو گئی ہیں جیسے روس، ایران اور ترکی کی افواج اور جہاز بھی اس لڑائی میں حصہ لے رہے ہیں۔

شام میں گو کہ بہت ہی کم تعداد میں مغربی اور عرب خصوصی افواج بھی موجود ہیں جو باغیوں کی معاونت کر رہی ہیں۔

ان حالات میں سب سے بڑا مسئلہ صدر اسد اور اُن کے اپنی عوام کے درمیان مختلف حصوں میں پائے جانے والے اختلافات ہیں اور یہ ایک بڑی علاقائی جنگ کا روپ اختیار کر رہے ہیں۔

شام سنّی عرب ریاستوں اور ایران کے ساتھ ساتھ مغرب اور شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ، ترکی اور کردوں کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مغرب اور شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے لیے خطرہ، ترکی اور کرد کے لیے خطرہ۔

تو پھر لندن میں ہونے والی اس بیٹھک کا مقصد کیا ہے؟ یا دوسری طرح سے یہ کہہ لیجیے کہ اعلیٰ مذاکراتی ٹیم کس کی نمائندہ ہے؟

جب میں نے یہ سوال ایک مغربی سفارتکار سے کیا تو انھوں نے جواب میں کہا کہ ’اعلیٰ مذاکرتی گروپ‘ اس وقت بنا جب شام میں انقلاب شروع ہوا۔ اس میں غیر جانبدار افراد کے ساتھ کئی اہم سیاسی فورسز موجود ہیں۔‘

اس جواب پر جب میں نے انھیں اچنبھے سے دیکھا تو انھوں نے کہا کہ ’ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ شام میں ایک بڑا حلقہ مذاکراتی گروپ کی حمایت نہیں کرتا۔ ہم امید کرتے ہیں نیا امن معاہدہ کئی افراد کو واپس لانے کے سلسلے میں اُن کی حوصلہ افزائی کرے گا۔‘

پس اعلیٰ سطح کے مذاکراتی کمیشن کے سامنے بھی مبہم چیزیں ہیں جو مغربی ممالک اس تنازعے سے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

شام میں ڈیموکریٹس اور عوام جماعتی سوسائٹی کی حمایت کرتے ہیں اور یہ ملیشیاؤں کو اکٹھا کرنے سے منسلک ہے۔ جیسے فری سیئرین آرمی نے مغربی ممالک کے حق میں لوگوں کی رائے کو ڈھالا۔

اعلیٰ سطح کے مذاکراتی کمیشن کے جنرل کوارڈینٹر ڈاکٹر ریاد حجاب نے کہا کہ ’مجھے غلط مت سمجھیں۔ یہ خشک مزاجی والا لمحہ نہیں ہے۔‘

ایسا واضح منصوبہ موجود ہے جس کے تحت مستقبل میں شراکت کے خیال پر مبنی سوسائٹی بنائی جائے۔ اس منصوبے میں عبوری حکومت کے قیام کا بھی تفصیلی منصوبہ موجود ہے جو بعد میں ملک میں انتخابات کروائے گی۔ کم سے کم کاغذ پر تو یہ سب موجود ہے۔

لیکن یہ حلب سمیت دوسرے لڑائی والے علاقوں میں کتنا موثر ہو گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ’اعلیٰ مذاکرتی گروپ‘ اس وقت بنا جب شام میں انقلاب شروع ہوا۔

اصل مسئلہ صدر اسد کی قسمت کا فیصلہ ہے۔ ڈاکٹر حجاب کے خیال میں اُن کے ’دوست‘ کو جانا ہو گا۔

برابری کی بنیاد پر ڈاکٹر حجاب کہتے ہیں کہ کوئی بھی غیر اہم نہیں ہے اور نا ہی کوئی اس سے باہر ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ اُن کی کمیٹی عراق میں صدام کے بعد کے حالات کا جائزہ لیا ہے اور فوج میں کچھ اکھاڑ پچھاڑ نہیں ہو گی۔

ان تمام سوالات کے آسان جواب موجود نہیں ہیں اور ڈاکٹر حجاب اور اُن کی کمیٹی بھی حالات کی سنگینی سے بخوبی واقف ہے لیکن اصل بنیادی مسئلہ سنجیدگی کا ہے۔ اُن کے پاس زمین پر رونما ہونے والے واقعات میں اپنا اثررو رسوخ دکھانے کے کافی ذرائع نہیں ہیں۔

ایچ ای سی پلان جنیوا میں سنہ 2012 کے مشترکہ اعلامیے کی بنیاد پر ہے جو فی الوقت شام کے تنازعے کے حل پر واحد سفارتی اتفاق رائے ہے۔

لیکن روس ایران کی مداخلت کے بعد سے یہ اب ختم ہو رہا ہے اور یہ تنازعہ اب علاقائی لڑائی کی شکل اختیار کر رہا ہے۔

زیادہ سے زیادہ برا یہی ہو گا شام ٹوٹ کر مختلف حصوں میں بٹ جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شام کا متحد رہنا ایک اہم نکتہ ہے۔ جب ڈاکٹر حجاب پر زوردیا گیا تو انھوں نے کہا کہ اگر صدر اسد نہیں جاتے اور عبوری حکومت کا آنا کھٹائی میں پڑ جاتا ہے تو پھر بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ ’اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔‘

انھوں نے صدر اوباما کی جانب سے بشار الاسد کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہ کرنے پر ناامیدی کا اظہار کیا لیکن امید ظاہر کی کہ نئی امریکی قیادت اس معاملے پر مختلف موقف اختیار کرے گی۔

اس وقت ہم جہاں ہیں وہیں ہیں۔ صدر بشار الاسد کی حکومت طاقتور بن کر ابھر رہی ہے۔ اُن کی افواج حلب کے علاقوں میں پیش قدمی کر رہی ہیں۔ ماسکو اور تہران ان کے اقدار کو دوام بخش رہے ہیں لیکن اس وقت صدر اسد کا کوئی متبادل نہیں ہے۔

اعلیٰ سطح کا کمیشن کام کرنا چاہتا ہے لیکن اس وقت سفارتی سرگرمیاں وہ عسکری خلا میں تبدیل ہو رہی ہیں۔

اسی بارے میں