شمالی کوریا کا کامیاب جوہری تجربے کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جنوبی کوریا کا خیال ہے کہ یہ شمالی کوریا کا اب تک کا سب سے بڑا جوہری تجربہ ہے

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس نے ایک کامیاب جوہری تجربہ کیا ہے جو کہ اس کا پانچواں جوہری تجربہ ہے۔

یہ اعلان شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے ملک میں جوہری تجربوں کے ایک مقام پر محسوس کیے جانے والے زلزلے کے جھٹکوں کے کئی گھنٹے بعد کیا۔

٭شمالی کوریا کا آبدوز سے بیلسٹک میزائل تجربہ ناکام

جمعے کی صبح شمالی کوریا میں 5.3 شدت کا زلزلہ آیا تھا اور جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے یونہپ نے کہا تھا کہ یہ ایک ’مصنوعی زلزلہ‘ ہے۔

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ یہ جوہری تجربہ ’ایک جدید اور حال ہی میں تیار کیے گئے جوہری وار ہیڈ‘ کا تھا اور اس نے اب بیلسٹک راکٹوں پر جوہری ہتھیار نصب کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔

جنوبی کوریا کا خیال ہے کہ یہ شمالی کوریا کا اب تک کا سب سے بڑا جوہری تجربہ ہے اور جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ اس حالیہ تجربے کی شدت دس کلوٹن تھی جو کہ گذشتہ تجربوں سے دوگنی ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ نے 1945 میں ہیروشیما پر جو ایٹم بم گرایا تھا اس کی شدت 15 کلوٹن تھی۔

اس تجربے سے ان خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ شمالی کوریا نے جوہری میدان میں مزید کامیابیاں حاصل کی ہیں اور وہ جوہری ہتھیاروں کو عملی طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت کے قریب پہنچ چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ GEOEYE
Image caption امریکی ادارے جیولوجیکل سروے، جو بین القوامی سطح پر زلزلوں پر نظر رکھتا ہے، نے جمعے کی صبح کہا ہے کہ اس علاقے میں جھٹکے محسوس کیے گئے اور ممکنہ طور وہ کسی دھماکے کا نتیجہ ہیں

جنوبی کوریا کے صدر پارک گیون ہے نے اس تجربے کو ’خود کو تباہ‘ کرنے کے مترادف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ کم جونگ ان ’خبطی اور ناتجربہ کار‘ ہیں۔

چین کی وزارتِ خارجہ نے شمالی کوریا کے اس اقدام کی مخالفت کی ہے اور اس پر زور دیا ہے کہ وہ صورتحال کو خرابی کی جانب لے جانے والی مزید کسی کارروائی سے گریز کرے۔

امریکہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس اقدام کے سنجیدہ نتائج مرتب ہوں گے۔

وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری کے مطابق اس خبر کے بعد صدر اوباما نے جنوبی کوریا اور جاپان کے وزرائے اعظم سے ٹیلی فون پر بات کی اور ایشیا سمیت دنیا بھر میں موجود اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔

اس سے قبل جاپان کے وزیر اعظم شنزو آبے نے کہا تھا کا ’اگر شمالی کوریا نے جوہری تجربہ کیا ہے تو ہم اس کی قطعی حمایت نہیں کر سکتے۔ ہمیں اس کے خلاف سخت احتجاج کرنا چاہیے۔‘

حال ہی میں سیٹلائٹ سے دستیاب ہونے والی تصاویر اور خفیہ ذرائع سے پتہ چلا تھا کہ پنگائری کے مقام پر نقل و حرکت میں اضافہ ہوا ہے، یہی وہ جگہ ہے جہاں ماضی میں شمالی کوریا جوہری تجربہ کر چکا ہے، اور پانچویں بار شمالی کوریا کی جانب سے جوہری تجربہ کیے جانے کا امکان تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شمالی کوریا نے گذشتہ کچھ عرصے سے متعدد میزائل ٹیسٹ کیے ہیں

اقوام متحدہ نے شمالی کوریا پر کسی بھی طرح کے جوہری بم یا میزائل ٹیکنالوجی کا تجربے کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

لیکن حالیہ مہینوں اس نے کئی بار بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے اور اپنے دشمنوں پر جوہری بم سے حملہ کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔

نو ستمبر شمالی کوریا کا قومی دن ہے، اس دن ملک کی قیادت اور حکومت کے لیے تقاریب کی جاتی ہیں۔ شمالی کوریا عام طور پر ایسے موقعوں پر اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ بھی کرتا ہے۔

اس سے قبل شمالی کوریا نے گذشتہ جنوری میں جوہری تجربہ کیا تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ممکنہ طور پر وہ ایک ہائیڈروجن بم تھا لیکن اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

اسی بارے میں