’روزانہ دہشت گردی کے منصوبے ناکام بنائے جا رہے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فرانس میں سکولوں، بازاروں اور حساس مقامات پر تعینات 7000 فوجی تعینات ہیں

فرانس کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ملک میں سکیورٹی ادارے ہر روز عسکریت پسندوں کے نیٹ ورک اور دہشت گردی کے منصوبوں کا پتا لگا کر انھیں ناکام بنا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں 15000 لوگوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

اس سے پہلے حکام نے کہا تھا کہ دس ہزار ایسے افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جو کہ بڑا خطرہ ہیں۔

سنیچر کے روز بھی ایک 15 سالہ لڑکے کو پیرس میں گرفتار کیا گیا جس کا ارادہ تھا کہ وہ ہفتے کے اختتام پر کوئی حملہ کرے گا۔

تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ اس کی اپریل سے نگرانی کی جا رہی تھی اور یہ فراسن میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے رکن سے رابطے میں تھا۔

فرانس میں گذشتہ برس نومبر میں ہونے والے حملوں کے بعد سے ہنگامی حالت نافذ ہے ان حملوں میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ادھر حال ہی میں ایک تحقیقاتی کمشن نے کہا تھا کہ ہنگامی حالت کے نفاذ کا اثر محدود ہے۔ اس میں سکولوں، بازاروں اور حساس مقامات پر تعینات 7000 فوجیوں پر سوال اٹھائے گئے تھے۔

فرانسیسی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’آج خطرہ بہت بڑھ چکا ہے اور ہم لوگ نشانے پر ہیں۔‘

’ہر روز انٹیلیجنس سروسز اور پولیس دہشت گردوں اور حملوں کا پتا چلا رہے ہیں۔ اس وقت فرانس میں 15 ہزار افراد کی نگرانی کی جا رہی ہے۔‘

ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’نئے حملے ہوں گے اور معصوم لوگ نشانہ بنبیں گے۔‘

آئندہ سال کے صدارتی انتخابات کے حوالے سے سیکیورٹی ایک اہم موضوع ہے اور وزیراعظم والز کا کہنا ہے کہ سابق صدر سارکوزی کی جانب سے مجوزہ خصوصی عدالتیں اس معاملے کا حل نہیں۔

یاد رہے کہ اگست میں سابق صدر سارکوزی نے اعلان کیا تھا کہ وہ آئندہ سال انتخابات میں ایک مرتبہ پھر صدارتی امیدوار ہوں گے۔

’ہر اس فرانسیسی شہری جس کے دہشتگردوں کے ساتھ تعلقات ہیں یا وہ جہادی ویب سائٹ پر متواتر جاتا ہے تو اسے روکنے کے لیے حراستی مرکز میں رکھا جانا چاہیے۔

ادھر پیرس میں نوٹرڈیم کتھیڈرل پر حملے کی منصوبہ بندی کے لیے ایک عورت کے خلاف فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔

اسی بارے میں