حج کا خطبہ مفتی اعظم نہیں دیں گے

Image caption عبدالعزیز الشیخ کو مفتی اعظم کا عہدہ 1999 میں سونپا گیا تھا تاہم ایک سعودی اخبار اوکاز کا کہنا ہے کہ 1981 سے وہ عرافات کے مقام پر نامیرا مسجد سے خطبہِ حج دے رہے ہیں

اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے مفتیِ اعظم عبدالعزیز الشیخ 35 برسوں میں پہلی مرتبہ اس سال حج کا خطبہ نہیں دیں گے۔

ایک سعودی اخبار کے مطابق مفتیِ اعظم عبدالعزیز الشیخ نے خطبہ نہ دینے کا فیصلہ صحت کی وجہ سے کیا ہے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں عبدالعزیز الشیخ نےایک متنازع بیان دیا تھا جس میں انھوں نے ایرانیوں کے مسلمان ہونے پر سوال اٹھایا تھا۔ ان کا یہ بیان ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانب سے سعودی عرب کو حج کے انتظامات کے حوالے سے شدید تنقید کے جواب میں آیا تھا۔

گذشتہ برس حج کے دوران بھگدڑ مچنے سے ایرانیوں سمیت سینکڑوں حجاج کی ہلاکت کے بعد بھی آیت اللہ علی خامنہ ای نےتجویز دی تھی کہ مسلمان ممالک حج پر سعودی اختیار کو ختم کرنے کے بارے میں سوچیں۔

دونوں ممالک کے درمیان اس سال حج کے انتظامات کے سلسلے میں مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے جس کی وجہ سے ایرانی شہری اس مرتبہ حج نہیں کر سکیں گے۔ اس سال تقریباً 15 لاکھ افراد حج کرنے کے لیے سعودی عرب پہنچے ہیں۔

عبدالعزیز الشیخ کو مفتی اعظم کا عہدہ 1999 میں سونپا گیا تھا تاہم ایک سعودی اخبار اوکاز کا کہنا ہے کہ 1981 سے وہ عرافات کے مقام پر نمرا مسجد سے خطبہِ حج دے رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے غیر تصدیق شدہ اطلاعات کے مطابق اس سال ان کی جگہ شیخ صالح بن حامد لیں گے۔

حج کا شمار مسلمانوں کے سب سے بڑے مذہبی اجتماع میں ہوتا ہے۔

اسی بارے میں