مقتول اطالوی طالبعلم سے پوچھ گچھ کی تھی: مصر

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اطالوی طالبعلم کے قتل کے الزام میں اگرچہ ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے

مصر اور اطالوی حکام کے مطابق قاہرہ میں اغوا کے بعد ہلاک کیے جانے والے اطالوی طالبعلم گیولیو ریگینی کے اغوا سے کچھ دیر قبل مصری پولیس نے ان سے پوچھ گچھ کی تھی۔

مصر کی پولیس کے بقول پوچھ گچھ کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب مصری حکام نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مصر کے سکیورٹی ادارے گیولیو ریگینی کی نگرانی کر رہے تھے۔

اطالوی طالبعلم کی تشدد زدہ لاش رواں برس فروری میں قاہرہ کے قریب سے ملی تھی۔

گیولیو ریگینی مصر میں ٹریڈ یونینز اور مزدوروں کے حقوق پر تحقیق کر رہے تھے، وہ ملک گیر مظاہروں کے آغاز کی پانچویں برسی کے موقعے پر 25 جنوری کو لاپتہ ہوگئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مصر کی پولیس کی جانب سے پہلے یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ اطالوی طالبعلم کی ہلاکت روڈ حادثے کی باعث ہوئی تھی

اطالوی طالبعلم کے قتل کے الزام میں اگرچہ ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے تاہم مارچ میں مصری حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ گیولیو ریگینی کے اغوا اور قتل میں ایک جرائم پیشہ گروہ ملوث تھا اور اس کے تمام اراکین پولیس سے مقابلے میں مارے گئے تھے۔

جمعے کو اطالوی اور مصری حکام کح جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ پولیس نے تین روز تک ریگینی کی نگرانی کی تھی اور اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ وہ مصر کی سکیورٹی کے لیے خطرہ نہیں ہیں جس کے بعد ان کے خلاف تحقیقات ختم کر دی گئی تھیں۔‘

خیال رہے کہ مصر کی پولیس کی جانب سے پہلے یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ اطالوی طالبعلم کی ہلاکت روڈ حادثے کی باعث ہوئی تھی اور اب تک پولیس کی جانب سے تحقیقات کے بارے میں زیادہ معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں