شام: جنگ بندی سے قبل فضائی حملے، 100 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شامی حزبِ اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ادلب میں ایک بازار پر حملے میں 37 افراد ہلاک ہوئے

شام میں جنگ بندی کے لیے امریکہ اور روس کی جانب سے منصوبے کے اعلان کے بعد باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں فضائی حملے کیے گئے ہیں جن میں کم سے کم 100 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

شامی حزبِ اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ادلب میں ایک بازار پر حملے میں 60 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ حلب میں ہونے والے فضائی حملوں میں 45 لوگ مارے گئے ہیں۔

٭ شام میں امن کا طویل اور پُرخطر سفر

٭ امریکہ اور روس جنگ بندی کےمعاہدے پر متفق

شام میں دس روزہ جنگ بندی پیر سے شروع ہونی ہے لیکن اس سے پہلے ہی جہادی عسکریت پسندوں کے خلاف یہ حملے کیے گئے ہیں۔

ترکی اور یورپی یونین نے جنگ بندی کے اس منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس حوالے سے مزید اقدامات کی بھی ضرورت پر زور دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جنگ بندی کا اطلاق پیر سے ہونا ہے

شام میں حزبِ اختلاف کی ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے منصوبے سے کچھ امید پیدا ہوئی ہے تاہم اس کی نوعیت کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کرنے کی ضرورت ہے کہ اسے کس طرز پر نافذ کیا جائے گا۔

ریاستی خبر رساں ادارے صنعا نیوز کے مطابق دمشق میں حکومت نے اس منصوبے کی حمایت کی ہے لیکن ایران کی جانب سے اس بابت کوئی بیان نہیں آيا ہے۔

خیال رہے کہ روس کی طرح ایران بھی بشار الاسد کی حکومت کا حامی رہا ہے۔

سوئزرلینڈ کے شہر جنیوا میں مذاکرات کے بعد امریکہ اور روس نے شام میں 12 ستمبر کو غروب آفتاب سے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ روس اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں طے کیا گیا کہ باغیوں کے کنٹرول والے مخصوص علاقوں کے خلاف شامی حکومت کارروائی نہیں کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پانچ برسوں سے جاری اس خانہ جنگی میں تین لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں

روس اور امریکہ کا مشترکہ سینٹر قائم کیا جائے گا جو اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم اور النصرہ کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کرے گا۔ یہ منصوبہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے دوران ایک روزہ بات چیت میں طے پایا۔

شام میں باغیوں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس منصوبے پر عمل درآمد کرنے کو تیار ہے بشرطیکہ شامی حکومت بھی سنجیدگی دکھائے۔

شامی صدر کے حلیفوں روس اور ایران کی جانب سے کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

شام میں شورش کا آغاز پانچ سال پہلے صدر بشارالاسد کے خلاف بغاوت سے ہوا اور اب تک اس میں کم سے کم تین لاکھ سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں