ٹرمپ کے حامیوں کو’گھٹیا‘ کہنے پر ہلیری کلنٹن کی معافی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ہلیری کلنٹن نے جمعے کو نیویارک میں یہ بیان دیا تھا

امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن نے اپنے حریف ڈونلڈ ٹرمپ کے نصف حامیوں کو ’گھٹیا‘ کہنے پر معافی مانگی ہے۔

لیکن رپبلکن پارٹی نے ان کے خلاف شدید بیان بازی شروع کر رکھی ہے اور کہا ہے کہ وہ رپبلکن کی ’تعصب پسندی اور نسل پرستانہ بیان بازی‘ کے خلاف لڑتے رہیں گے۔

٭ ہلیری کلنٹن متعصب اور ہٹ دھرم ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

٭ ’ٹرمپ کے آدھے حامی ناپسندیدہ ہیں‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے ہلیری کلنٹن کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ان کا بیان لاکھوں دلچسپ اور محنت کرنے والے لوگوں کے لیے توہین آمیز ہے۔‘

دریں اثنا رائے عامہ کے سروے میں یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ ہلیری کلنٹن کے مقابلے ڈونلڈ ٹرمپ کو فائدہ ہو رہا ہے۔

معافی مانگتے ہوئے ہلیری کلنٹن نے کہا: ’گذشتہ رات ہم نے بہت ہی عمومی بات کہی جو کہ بہت اچھی بات نہیں۔ مجھے نصف کہنے پر افسوس ہے اور وہ کہنا غلط تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ بہت سے ٹرمپ کے حامی محنتی امریکی ہیں اور وہ سیاسی اور معاشی نظام کی کارکردگی سے بیزار ہیں۔

تاہم انھوں نے اپنے بیان میں زیادہ تر اپنے حریف کو ’تعصب اور نفرت پیدا کرنے‘ کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا اور ’نفرت انگیز خیالات رکھنے اور بیان دینے والوں‘ کو شہ دینے کے لیے بھی انھیں تنقید کا نشانہ بنایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دونوں امیدواروں کے درمیان کانٹے کی ٹکر نظر آ رہی ہے

خیال رہے کہ دونوں امیدواروں کے درمیان اوہایو اور فلوریڈا میں کانٹے کی ٹکر ہے۔

ہلیری کلنٹن کے ’گھٹیوں کے پٹارے‘ والے بیان کا مٹ رومنی کے سنہ 2012 کے بیان یا پھر براک اوباما کے سنہ 2008 کے بیان سے موازنہ کیا جار ہا ہے۔ مٹ رومنی نے کہا تھا کہ سرکاری خیرات پر منحصر 47 فی صد امریکی براک اوباما کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ اوباما نے پنسلوانیا کے پسماندہ طبقے کو بندوق اور مذہب کو پکڑنے والے سے تعبیر کیا تھا۔

بہر حال ابھی یہ واضح نہیں کہ اس متنازع بیان سے مز کلنٹن کو براہ راست کتنا نقصان ہوگا۔ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے کسی حامی کو نسل پرست یا ہم جنسیت سے بیزار کہہ کر اپنی جانب نہیں کرسکتیں کیونکہ وہ ان سے بہت جڑے ہوئے ہیں جبکہ ہلیری کلنٹن کے حامی ان کے اس بیان سے اتفاق رکھ سکتے ہیں۔

یہاں یہ بات اہم ہے کہ اس تنازعے کو وہ ووٹر کس طرح لیتے ہیں جنھوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ کس کی حمایت کرنا ہے اور ان کی تعداد خاطر خواہ ہے۔ وہ ڈیموکرٹک کنوینشن کے بعد مز کلنٹن کی جانب جانے لگے تھے لیکن اب وہ کسی تیسری پارٹی کی جانب دیکھ رہے ہیں۔

جمعے کو نیویارک میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ’عام طور پر آپ ٹرمپ کے نصف حامیوں کو اس درجے میں رکھ سکتے ہیں جسے ہم گھٹیے پن کا پٹارا کہتے ہیں۔ بد قسمتی سے ان میں ایسے لوگ ہیں اور انھوں نے ان کو اوپر اٹھایا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ہلیری کلنٹن نے اپنے بیان پر اظہار افسوس کیا ہے

’ایل جی بی ٹی‘ کی تقریب سے انھوں نے کہا کہ ’وہ لوگ نسل پرست، صنفی متعصب، مذہبی متعصب اور غیر ملکیوں سے نفرت کرنے والے ہیں۔‘

اور ان کے مطابق ٹرمپ کے باقی حامی تو بس تبدیلی کے خواہاں ہیں۔

اپنے ٹویٹ کے ذریعے جواب دیتے ہوئے مسٹر ٹرمپ نے کہا: ’میرے خیال سے انھیں انتخابات میں یہ مہنگا پڑے گا۔‘

ٹرمپ کے ساتھی مائک پینس نے کہا: ’وہ کسی چیز کا پٹارہ نہیں ہیں بلکہ وہ امریکی ہیں اور قابل عزت ہیں۔‘

ریپبلیکن نیشنل کمیٹی کے سربراہ رینسے پرائبس نے کہا کہ ’مسز کلنٹن نے عام لوگوں کے متعلق اپنی واضح حقارت کا اظہار کیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’لاکھوں امریکی ریپبلیکن پارٹی کے نمائندے کے حامی ہیں کیونکہ وہ ہلیری کلنٹن جیسے بدعنوان کريئر والے سیاست دانوں سے تنگ آ چکے ہیں۔‘

اسی بارے میں