لیبیا: ’کیمرون نے ناقص انٹیلی جنس پر انحصار کیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لیبیا میں پانچ سال سے شورش جاری ہے

برطانیہ میں ایک پارلیمانی رپورٹ میں برطانیہ اور فرانس کی لیبیا میں فوجی مداخلت پر سخت تنقید کی گئی ہے جس کے نتیجے میں 2011 میں کرنل معمر قذافی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب قذافی کی حکومت نے ایک بغاوت سے نمٹنے کی کوشش کی تو فرانس نے شہری آبادی کو لاحق خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔

اس کے علاوہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس وقت کے برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ناقص انٹیلی جنس معلومات پر انحصار کرتے ہوئے لیبیا کے سیاسی اور معاشی انہدام کو تیز تر کر دیا۔

٭ لیبیا میں برطانوی کردار پر تنقید، کیمرون برہم

٭ لیبیا کے معاملے پر اوباما کی کیمرون پر تنقید

یاد رہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے بھی اعتراف کیا تھا کہ لیبیا میں کرنل قدافی کو معزول کرنے کے بعد کی صورت حال کی پیش بندی نہ کرنا ان کے عہدۂ صدارت کی بدترین غلطی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption برطانوی حکومت نے کہا تھا کہ اس کی فوجی کارروائی کا مقصد لیبیا کے عوام کو ملک کے آمر معمر قذافی سے بچانا تھا

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کیمرون لیبیا کے بارے میں مربوط حکمتِ عملی تشکیل دینے میں ناکام رہے۔

برطانیہ اور فرانس نے 2011 کے اوائل میں لیبیا کے اس وقت کے سربراہ معمر قذافی کے خلاف بین الاقوامی اتحادی کوششوں کی سربراہی کرتے ہوئے وہاں بمباری کی تھی، جس کی وجہ سے وہاں سرگرم باغیوں کو حکومت کا تختہ الٹنے کا موقع مل گیا۔

برطانیہ کی خارجہ امور کی کمیٹی نے اس دوران لیبیا سے متعلق برطانیہ کی فیصلہ سازی کا جائزہ لیا، جس کے بارے میں برطانوی حکومت نے کہا تھا کہ اس کا مقصد لیبیا کے عوام کو ملک کے آمر معمر قذافی سے بچانا ہے۔

رپورٹ کے مطابق: ’حکومت قذافی کی جانب سے شہری آبادی کو لاحق اصل خطرے کی تصدیق نہیں کر سکی، اس نے قذافی کی تقاریر کے کچھ حصوں کو حقیقت جان لیا، اور وہ بغاوت میں شامل اسلامی شدت پسند عناصر کی نشان دہی کرنے میں ناکام رہی۔

’برطانیہ کی حکمتِ عملی غلط اندازوں اور شواہد کی نامکمل تفہیم پر مبنی تھی۔‘

لیبیا میں قذافی کے اقتدار سے ہٹنے کے پانچ برس بعد بھی وہاں شورش جاری ہے، اور دو مخالف حکومتیں اقتدار اور تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے رسہ کشی میں جٹی ہوئی ہیں۔

Image caption ڈیوڈ کیمرون نے ناقص انٹیلی جنس معلومات پر انحصار کرتے ہوئے لیبیا کے سیاسی اور معاشی انہدام کو تیز تر کر دیا: رپورٹ

خارجہ کمیٹی کے سربراہ کرسپن بلنٹ نے کہا کہ برطانیہ کے پاس دوسرے راستے موجود تھے، جن کے بہتر نتائج نکل سکتے تھے: ’سیاسی بات چیت سے شہری آبادی کا تحفظ، حکومت کی تبدیلی اور اصلاحات ممکن تھیں جن کی لیبیا اور برطانیہ دونوں کو کم قیمت چکانا پڑتی۔

’حکومت کی تبدیلی کے محض فوجی ذرائع پر انحصار کرنے کی بجائے اگر برطانیہ یہ طریقے آزمانے کی کوشش کرتا تو اسے کوئی نقصان نہ اٹھانا پڑتا۔‘

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت کو اس بات سے باخبر ہونا چاہیے تھا کہ شدت پسند جنگجو بغاوت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں، اور یہ کہ بغاوت میں سرگرم عناصر کا کوئی باقاعدہ تجزیہ نہیں کیا گیا۔

اسی بارے میں