جنگل جلانا گناہ ہے: انڈونیشیا میں فتویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈونیشیا میں فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور خطے میں موجود دوسرے ممالک پر اس کا اثر ہو رہا ہے

انڈونشیا میں اعلی علما کونسل نے فتوی دیا ہے کہ فصلیں اگانے کے لیے اراضی خالی کرنے کی غرض سے جنگلات کو جان بوجھ کر آگ لگانا گناہ ہے۔

انڈونیشیا میں جنگلات کا ایک بڑا حصہ غیر قانونی کٹاؤ اور جلائے جانے کے واقعات کا شکار ہو رہا ہے۔

ان واقعات سے انڈونیشیا میں فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور خطے میں موجود دوسرے ممالک پر اس کا اثر ہو رہا ہے۔

انڈونیشیا پر اس کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات نہ کرنے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔

انڈونیشیا میں حکام کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اس سے اخلاقی اثر پڑے گا اور فتوے کی مدد سے قانون کے نفاذ میں مدد ملے گی۔

جکارتہ میں ایک مشترکہ کانفرنس میں انڈونیشیئن علام کونسل اور وزاتِ ماحولیات کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں مذاکرات کر رہے تھے کہ اس کا نفاذ کیسے کیا جائے۔

ایم یو آئی میں ماحولیاتی تحفظ کے شعبے کے سربراہ ہایو پرابووہ کا کہنا تھا کہ زیادہ تر جنگلات کمپنیوں کی جانب سے جلائے گئے اور اب اس عمل کو حرام قرار دینے سے یہ لوگوں میں ان کے لیے حمایت کا احساس پیدا ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا ’اس فتوے سے مذہبی رہنما اور عام لوگ جو ماضی میں پرواہ نہیں کرتے تھے مستقبل میں اس کے لیے ذمہ داری محسوس کریں گے اور اپنے علاقے میں جنگلوں کو جلنے سے بجائیں گے۔‘

اسی بارے میں