کینیا: داداب کیمپ کے پناہ گزینوں کی بازآبادکاری کا مسئلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کینیا پناہ گزینوں کو باز آبادکاری یا وہاں رہنے کا حقیقی متبادل نہیں دے رہا ہے: ہیومن رائٹس واچ

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کینیا کے داداب کیمپ سے صومالیہ کے پناہ گزینوں کی رضاکارانہ طور پر باز آبادکاری بین الاقوامی اصولوں کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ جو صومالیہ لوٹ رہے ہیں ان میں سے بہت سے وہاں سے نکالے جانے کے خوف سے لوٹ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ دسیوں ہزار پناہ گزین ایک سال کیمپ میں گزارنے کے بعد وطن لوٹ رہے ہیں۔

کینیا اور صومالیہ دونوں کا کہنا ہے کہ اب داداب کو بند کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

لیکن ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ کینیا پناہ گزینوں کو باز آبادکاری یا وہاں رہنے کا حقیقی متبادل نہیں دے رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گيا ہے کہ اقوام متحدہ کے پناہ گزین کا شعبہ یو این ایچ سی آر پناہ گزینوں کو صومالیہ میں سکیورٹی کے بارے میں درست معلومات فراہم نہیں کر رہا ہے اور واپسی پر انھیں شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption داداب کیمپ میں تین لاکھ سے زیادہ پناہ گزین رہتے ہیں

تنظیم نے کہا ہے کہ پناہ گزینوں کو ایک ایسی جگہ جانے کے لیے دباؤ ڈالنا جہاں ان کی زندگی اور آزادی کو خطرہ ہو وہ سنہ 1951 کے پناہ گزین کنوینشن کی خلاف ورزی ہے۔

تنظیم نے کہا ہے کہ بعض پناہ گزین کیمپ اس لیے بھی چھوڑنے پر آمادہ ہیں کہ انھیں بعد میں نکالے جانے کا خوف ہے اور وہ اقوام متحدہ کی جانب سے 400 امریکی ڈالر کی نقد مراعات بھی چھوڑنے پر تیار ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے بل فریلک نے کہا کہ اس قسم کی واپسی کو کسی بھی طرح رضاکارانہ نہیں کہا جا سکتا۔

خیال رہے کہ داداب کیمپ میں تین لاکھ سے زیادہ پناہ گزین رہتے ہیں۔ اسے سنہ 1991 میں قائم کیا گیا تھا اور کئی خاندان تو وہاں 20 سال سے بھی زیادہ عرصے سے رہ رہے ہیں۔

کینیا کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں ہونے والے بعض حملوں کی منصوبہ بندی اسی کیمپ میں ہوئی ہے۔