لاپتہ طلبا کیس: تفتیشی ادارے کے سربراہ مستعفی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لاپتہ طالب علموں کے خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ ٹومس زیرون کے استعفے کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس کریں گے

میکسیکو میں سنہ 2014 میں لاپتہ ہونے والے 43 طالب علموں کے معاملے کی تحقیقات کرنے والے تفتیشی ادارے کے سربراہ نے استعفیٰ دے دیا ہے۔

خیال رہے کہ لاپتہ ہونے والے طلبا زیرِ تربیت اساتذہ تھے جو غیر منصفانہ بھرتیوں کے خلاف احتجاج کرنے اور اپنے کالج کے لیے چندہ کرنے کے لیے جنوبی صوبے گوریرو کے شہراگیوالا گئے تھے لیکن پولیس کے ساتھ تصادم کے بعد غائب ہو گئے۔

طالب علموں کے خاندانوں کی جانب سے ٹومس زیرون کے استعفے کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔

بدھ کو پیش کیے گئے استعفے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی۔

طالب علموں کے خاندان کی جانب سے اس واقعے کے سرکاری مؤقف سے اختلاف کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ طالب علموں کو قتل کے بعد جلا دیا گیا تھا۔

حکومت کا کہنا تھا کہ طالب علموں کو گوریرو ریاست کے شہر اگوالا میں 26 ستمبر 2014 کو حراست میں لیا گیا تھا۔

اس وقت کے پراسیکیوٹر جنرل جیسس موریلو کرم نے بتایا تھا کہ پولیس نے طالب علموں کو ایک منشیات فروش گینگ کے حوالے کر دیا تھا جنھوں نے انھیں مارنے کے بعد ان کی لاشوں کو اجتماعی طور پر نذرآتش کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حکومت کا کہنا تھا کہ طالب علموں کو گوریرو ریاست کے شہر اگوالا میں 26 ستمبر 2014 کو حراست میں لیا گیا تھا

دو آزاد بین الاقوامی تحقیقات میں ان ابتدائی دعوؤں کو رد کر دیا گیا تھا اور لاپتہ افراد کے خاندانوں نے مزید تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

مستعفی ہونے والے ٹومس زیرون جرائم کی تحقیقات کرنے والے ادارے میں فورینسک کے کام اور دیگر تفتیش کاروں کی نگرانی کر رہے تھے۔

تاہم انٹر امریکن کمیشن آن ہیومن رائٹس کی جانب سے تنقید کے بعد ان کے خلاف بھی تفتیش کی جارہی تھی۔

یہ امر سامنے آیا تھا کہ وہ اس واقعے کے ثبوت ملنے سے ایک دن قبل وہ آگ لگائے جانے والے مقام پر گینگ کے مبینہ ارکان کے ہمراہ گئے تھے اور اس بارے میں سرکاری ریکارڈ میں درج نہیں کیا گیا۔

لاپتہ طالب علموں کے خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ جمعرات کو ٹومس زیرون کے استعفے کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس کریں گے۔

اسی بارے میں