فلپائن کے صدر دوتیرتے پر’قتل‘ کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

فلپائن کے صدر روڈریکو دوتیرتے پر الزام ہے کہ انھوں نے وزارت انصاف کے ایک ایجنٹ کو اُوزی سب مشین گن سے فائر کر کے قتل کر دیا تھا۔ یہ واقعہ مبینہ طور پر اس وقت ہوا تھا جب وہ ڈاواؤ شہر کے میئر کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔

صدر دوتیرتے پر یہ الزام ایک مبینہ ڈیتھ سکوارڈ کے رکن ایڈگر ماٹوباٹو نے ماورائے عدالت ہلاکتوں سے متعلق ایک سینیٹ انکوائری کے سامنے لگایا۔

انھوں نے الزام لگایا کہ انھیں صدر دوتیرتے نے 25 سال کے دوران ایک ہزار مجرموں یا سیاسی مخالفین کو قتل کرنے کے احکامات دیے تھے۔

ایک حکومتی وزیر نے ان الزامات کو ’جھوٹ اور من گھڑت‘ قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other

وزارتِ انصاف کے سیکریٹری وٹالیئانو اگوارے نے کہا کہ ماٹوباٹو ’ظاہری طور پر سچ نہیں بول رہے‘ جبکہ صدر کے ترجمان نے کہا کہ صدر دوتیرتے کے مئیر کے دور کے سلسلے میں ہونے والی انکوائریاں بے نتیجہ ثابت ہوئی ہیں۔

ستاون سالہ ماٹوباٹو نے کہا ہے کہ وہ ڈاواؤ کے اس ڈیتھ سکوارڈ کے ایک رکن تھے جس پر سینکڑوں ہلاکتوں کا الزام لگایا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ منشیات کے سمگلروں، ریپ کے ملزموں اور لٹیروں کو ہلاک کرنا ان کی ذمہ داری تھی۔

لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ مسٹر دوتیرتے کے مخالفین کو بھی نشانہ بنایا گیا جن میں میئر کے الیکشن میں ان کے مخالف امیدوار کے چار محافظ بھی شامل تھے۔

انھوں نے کہا کہ 1993 میں ان کے گروپ نے وزارت انصاف کے ایک ایجنٹ کو ایک ناکے پر ہونے والی جھڑپ میں زخمی کر دیا تھا۔

’اس زخمی ایجنٹ کو میئر دوتیرتے نے ختم کیا تھا۔ جب وہ (دوتیرتے) آئے تو ایجنٹ جامیسولہ ابھی زندہ تھے۔ انھوں نے اوزی کی دو میگزینیں اس پر خالی کیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں کی آنتیں نکالی جاتی تھیں اور سمندر میں پھینک دیا جاتا تھا تاکہ انھیں مچھلیاں کھائیں یا ایک موقع پر تو انھیں ایک مگر مچھ کے آگے ڈال دیا گیا تھا۔

انھوں نے سینیٹ کی کمیٹی کو بتایا کہ صدر دوتیرتے کے صدر بننے کے بعد وہ گواہوں کی حفاظت کے لیے ترتیب دیے گئے وٹنس پروٹیکیشن پروگرام کو چھوڑ کر اپنی جان بچانے کے لیے زیر زمین چلے گئے تھے۔

متعلقہ عنوانات