ٹرمپ نے بالآخر مان لیا کہ اوباما امریکہ میں پیدا ہوئے تھے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ نے 2011 میں اوباما کی پیدائش کے معاملے پر ایک زبردست مہم شروع کی تھی

رپبلکن پارٹی کی جانب سے امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے بالآخر تسلیم کر لیا ہے کہ صدر براک اوباما امریکہ میں پیدا ہوئے تھے۔

اس سے قبل ٹرمپ اس بات کے حق میں مہم چلا چکے ہیں کہ چونکہ اوباما امریکہ میں پیدا نہیں ہوئے تھے اس لیے وہ ملکی قانون کے تحت صدر بننے کے اہل نہیں ہیں۔

تاہم ٹرمپ نے ہلیری کلنٹن کی مہم پر الزام لگایا ہے کہ اوباما کی جائے پیدائش کا معاملہ پہلے انھوں نے 2008 میں اٹھایا تھا۔

ہلیری کلنٹن نے جواب میں کہا ہے کہ ٹرمپ کی مہم کا دارومدار ہی اس ’بدترین جھوٹ‘ پر تھا۔

ٹرمپ نے واشنگٹن میں ایک انتخابی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’صدر براک اوباما امریکہ میں پیدا ہوئے تھے، بات ختم۔ ہلیری کلنٹن اور ان کی 2008 کی مہم نے پیدائش کا یہ تنازع کھڑا کیا تھا۔ میں نے اسے ختم کیا۔‘

تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ہلیری کلنٹن نے 2008 میں ڈیموکریٹ پارٹی کی جانب سے صدارتی نامزدگی کے مقابلے میں اوباما کے خلاف ان کی پیدائش کا مسئلہ اٹھایا ہو۔

ٹرمپ کی انتخابی مہم کے مشیر جیسن ملر نے کہا تھا کہ اوباما کو اپنی پیدائش کا سرٹیفیکیٹ جاری کرنے پر مجبور کر کے ٹرمپ نے یہ ’بدنما معاملہ اس کے انجام تک پہنچا دیا تھا۔‘

تاہم ٹرمپ نے سرٹیفیکیٹ جاری ہونے کے بعد 2012 میں ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ انھیں ’انتہائی باوثوق ذرائع‘ سے پتہ چلا ہے کہ یہ سرٹیفیکیٹ جعلی تھا۔

اس جمعرات کو جب اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ان سے اوباما کی پیدائش کے بارے میں پوچھا تو ٹرمپ نے پھر بھی یہ کہنے سے انکار کیا تھا کہ اوباما امریکی ریاست ہوائی میں پیدا ہوئے تھے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ انتخابی مہم میں پیدائش کا معاملہ اہم نہیں لیکن یہ اب بھی سیاہ فام امریکیوں کے دلوں میں کھٹکتاہے، جو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ملک کے پہلے سیاہ فام صدر کے قانونی جواز پر سوال اٹھانے کے مترادف تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکی قانون کے مطابق صرف وہی شخص ملک کا صدر بن سکتا ہے جو امریکہ میں پیدا ہوا ہو

سیاہ فام امریکیوں کی بڑی تعداد شد و مد سے کلنٹن کی حمایت کر رہی ہے اور ٹرمپ کلنٹن کےاثر کو زائل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

دوسری جانب ہلیری کلنٹن نے بھی واشنگٹن میں اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے پیدائش کا معاملہ پانچ برس قبل اٹھایا تھا اور انھوں نے اپنی مہم کا دارومدار اسی بدترین جھوٹ پر رکھا ہے۔ ’اب اسے مٹایا نہیں جا سکتا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ کو اوباما اور امریکی عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔ ذرا ایک ایسے شخص کا تصور کریں جو اوول آفس میں بیٹھا سازشی نظریات پھیلا رہا ہو۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں