بربریت کا شکار یزیدی لڑکی خیرسگالی کی سفیر مقرر

Image caption عسکریت پسند گروہ کی جانب سے انھیں متعدد بار خریدا اور بیچا گیا

شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں گینگ ریپ اور دیگر مصائب کا شکار رہنے والی ایک نوجوان یزیدی لڑکی کو اقوامِ متحدہ کا سفیر مقرر کیا جا رہا ہے۔

نادیہ مراد جنھیں نوبل پیس پرائز کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا کو اقوامِ متحدہ کی جانب سےانسانی اسمگلنگ کے متاثرین کے لیے خیر سگالی سفیرمقرر کیا جا رہا ہے۔

یزیدی کون ہیں؟

اقوامِ متحدہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ’یہ پہلا موقع ہے کہ مظالم میں بچ جانے والے کسی شخص کو اس اعزاز سے نوازا گیا ہے۔‘

خیال رہے کہ نادیہ اور ان کے خاندان کو سنہ 2014 میں عراق سے دولتِ اسلامیہ نے اپنی قید میں لیا تھا اور ان کے چھ بھائیوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔

نادیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ دولتِ اسلامیہ کی جانب سے انھیں جنسی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایاگیا تھا۔

’ ان کے اصول کے مطابق پکڑی جانے والی عورت مالِ غنیمت ہوتی ہے اور اگر وہ بھاگنے کی کوشش کرے تو اس کمرے میں بند کر کے ریپ کیا جاتا ہے، میرے ساتھ گینگ ریپ کیا گیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ عسکریت پسند گروہ کی جانب سے انھیں متعدد بار خریدا اور بیچا گیا۔

نادیہ آخر کار ان کی قید سے بھاگنے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔

نادیہ کی اس عہدے پر تیعناتی کے سلسلے میں منعقد تقریب میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور نادیہ کی وکیل امل کونی بھی شرکت کریں گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں