’شامی فوج پر حملے سے جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی ہے‘

Image caption اقوامِ متحدہ میں دونوں ممالک کے سفیروں نے ایک دوسرے پر تنقید کی ہے

روس نے کہا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے لڑنے والے شامی فوجیوں پر امریکہ کی فضائی بمباری نے ملک میں جاری غیر یقینی جنگ بندی کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں روس کے سفیر ویٹالی چرکن کے بقول اس حملے نے جنگ بندی کے مستقبل پر بڑا سوالیہ نشان ڈال دیا ہے۔

٭ ’روس باغی گروہوں پر دوبارہ بمباری کر سکتا ہے‘

٭ جنگ بندی کے تین دن بعد بھی امدادی سامان کا انتظار

روس کے مطابق اس حملے میں کم از کم 60 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

امریکہ نے ’غیر ارادی‘ طور پر انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہارِ افسوس کیا ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ جب اتحادی طیاروں کو معلوم ہوا کہ علاقے میں شامی افوج ہیں تو فضائی بمباری روک دی گئی تھی۔

سنیچر کی رات سکیورٹی کونسل کی میٹنگ کے دوران روس اور امریکہ کے نمائندوں کی جانب سے ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

خیال رہے کہ اس حملے کے بعد روس کی جانب سے سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا تھا۔

امریکی سفیر سمینتھا پاول نے روس کی جانب سے ہنگامی اجلاس بلانے کے اقدم کو ’بلاجواز اور منافقانہ‘ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب روس کے سفیر کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ کا یہی رویہ رہا تو جنگ بندی کا مسقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ اسے امریکی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے طیاروں سے ہونے والے حملے پر افسوس ہے کیونکہ اس کے مطابق ان طیاروں سے نادانستہ طور پر شامی افواج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اس کے ساتھ ہی اقوامِ متحدہ نے روس پر بھی تنقید کی ہے جس نے اس حملے کے جواب میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔

امریکی اتحادی افواج کی سینٹرل کمانڈ نے تسلیم کیا ہے کہ انھوں نے ان ٹھکانوں کا دولت اسلامیہ کا ٹھکانہ سمجھ کر حملہ کیا جس پر وہ کئی دنوں سے نظر رکھ رہے تھے۔

لیکن ماسکو نے واشنگٹن پر نام نہاد جنگجو تنظیم دولت اسلامیہ کی امداد کا الزام لگایا ہے۔

روس کے صدر ولادی میر پوتن نے شام میں امریکی حکمتِ عملی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں باغی گروپ حالیہ جنگ بندی سے فائدہ اٹھا کر ازسرنو منظم ہو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ، جو کچھ گروپوں کی حمایت کر رہا ہے، ان کی فوجی صلاحیت کو برقرار رکھنے پر زیادہ توجہ دے رہا ہے بجائے اس کے کہ وہ اعتدال پسند عناصر کو شدت پسندوں سے الگ کرے جو پیر سے شروع ہونے والی جنگ بندی کا بنیادی مقصد ہے۔

مسٹر پوتن نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے کو منظر عام پر لائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں