’برقینی کا معاملہ کہاں جا کر ختم ہو گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ CHANNEL 7
Image caption میں مقامی مسلمان خواتین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے یورپ گئی تھیں: زینب

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی ایک مسلمان خاتون نے بتایا کہ فرانس میں ساحل پر برقینی پہننے پر انھیں کیسے عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔

23 سالہ زینب الصالح میڈیکل کی طالبِ علم ہیں۔

٭فرانس: برقینی پر پابندی کا فیصلہ اعلیٰ عدالت میں چیلنج

انھوں نے آسٹریلیوی میڈیا کو بتایا کہ وہ مقامی مسلمان خواتین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے یورپ گئی تھیں۔

چینل سیون پر نشر ہونے والی ویڈیو میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ ساحل پر موجود افراد نے اُن سے کہا کہ اگر وہ یہاں سے نہ گئیں تو وہ پولیس کو بلا لیں گے۔

فرانس کی کئی ساحلی مقامات پر برقینی پہنے پر پابندی عائد تھی لیکن ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے اگست میں برقینی پر پابندی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا۔

برقینی پر پابندی عائد کرنے والے مقامی میئر کا کہنا تھا کہ برقینی مذہب اسلام کو ظاہر کرتی ہے اور مذہبی وابستگی ظاہر ہونے سے خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

زینب الصالح نے بتایا کہ اُن کے خاندان کے افراد صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے فرانس گئے اور یہ کوشش کی کہ وہ کیسے ان خواتین کو عام خواتین کی طرح زندگی گزارنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

ٹی وی پر نشر ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک آدمی دھمکی دینے کے انداز میں کہہ رہا ہے کہ اگر وہ ساحل سے چلی جائیں نہیں جاتی تو وہ پولیس کو بلا لیں گے۔

ساحل پر موجود دوسرے افراد بھی انھیں ناپسندیدہ انداز میں دیکھ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Channel 7
Image caption فرانس کی کئی ساحلی مقامات پر برقینی پہنے پر پابندی عائد تھی لیکن ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے

زینب کا کہنا ہے کہ ’وہ ہماری وہاں موجودگی سے خوش نہیں تھے۔ یہاں تک کہ وہ ساحل ایسا نہیں جہاں برقینی پر پابندی ہو۔یہ معاملہ ساحل سے شروع ہوا ہے۔ خدا جانے کہاں جا کر ختم ہو گا۔‘

زینب کا کہنا ہے کہ وہ خواتین جو اپنا چہرہ یا سر ڈھانپتی ہیں اُن کے بارے میں یہ خیال کرنا کہ اُن پر جبر ہو رہا ہے یہ غلط ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’باہر نکلتے ہوئے حجاب پہننا میرے ایمان کی نشانی ہے، میرے مذہب کی نشانی ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں