شام:امدادی قافلے پر حملے کے بعد اقوام متحدہ کی امداد معطل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اقوام متحدہ نے شام میں پیر کو حلب کے قریب اپنے ایک امدادی قافلے پر حملے کے بعد ادارے کی جانب سے شام بھیجی جانے والی تمام امداد معطل کر دی ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ادارے نے حلب کو جانے والے امدادی قافلے کی بارے میں روس اور امریکہ سمیت شام میں موجود تمام متحارب فریقوں کو پیشگی اطلاع دی تھی اور قافلے کے پاس حلب میں امداد فراہم کرنے کا اجازت نامہ بھی موجود تھا۔

٭ جنگ بندی کے بعد حلب میں پہلی فضائی کارروائی

٭ شامی فوج پر نادانستہ حملے کا افسوس ہے: امریکہ

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے شامی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے خانہ جنگی میں زیادہ تر شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔

غیر معمولی طور پر دوٹوک انداز اختیار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ طاقتور سرپرست۔۔۔ جو جنگ کی مشین چلا رہے ہیں کے ہاتھ بھی خون میں رنگے ہیں۔‘

امریکی سیکریٹری خارجہ جان کیری نے بھی اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات میں اس بات پر اصرار کیا کہ جنگ بندی کا معاہدہ ’ختم‘ نہیں ہوا۔

اقوام متحدہ کی اس تازہ ترین پابندی سے پہلے شامی فوج کی جانب سے ایک ہفتے سے جاری جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے فوراً بعد ہی پیر کو اقوام متحدہ کے امدادی قافلے پر جنگی جہازوں نے حملہ کر دیا تھا جس میں قافلے میں شامل 31 میں سے 18 لاریوں کو تباہ کر دیا گیا تھا۔ ان گاڑیوں میں موجود امدادی سامان میں گندم، موسم سرما کے کپڑے اور ادویات وغیرہ شامل تھیں اور یہ قافلہ 78 ہزار افراد کے لیے امداد لے کر جا رہا تھا۔

مبصرین کے مطابق اس فضائی حملے میں کم سے کم 12 افراد ہلاک ہوگئے جن میں شام میں بین الاقوامی امدادی ادارے ریڈ کریسٹ کے ایک سینیئر اہلکار بھی شامل تھے۔

ریڈ کراس کی انٹرنیشل کمیٹی کے صدر پیٹر ماؤرِش نے امدادی قافلے پر حملے کو ’بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ‘ سے تعبیر کیا ہے۔

اروم الخبریٰ کے قصبے کے قریب کیے جانے والے اس حملے پر ’شدید غم وغصے‘ کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کا کہنا تھا کہ وہ روس کے ساتھ ’مستقبل میں تعاون کے امکانات کا دوبارہ جائزہ‘ لے گا۔

امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان جان کربی کا کہنا تھا ’شامی حکومت اور روس کو اس قافلے کی منزل کا پہلے سے علم تھا، پھر بھی شامی لوگوں کو امداد پہنچانے کی کوشش کرنے والے یہ امدادی کارکن مارے گئے۔‘

برطانیہ میں موجود انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ حملہ شامی یا روسی فوج کی جانب سے کیا گیا ہے تاہم دمشق نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں امدادی ادارے کے سربراہ سٹیفن او برائن کا کہنا تھا کہ یہ ایک ’سنگ دل‘ حملہ تھا اور اسے جان بوجھ کر کیا گیا جرم سمجھا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

عینی شاہدین نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ریڈ کریسنٹ کے احاطے میں کھڑی گاڑیوں پر پانچ میزائل داغے گئے۔

امدادی قافلہ حلب میں باغیوں کے زیرِ قبضہ دیہی علاقوں میں جا رہا تھا۔

شام کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے سٹیفن ڈی مستورہ کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی ظلم ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بھجوائی گئی ایک ای میل میں ان کا کہنا تھا ’یہ امدادی قافلہ ایک طویل عمل کے نتیجے میں جا رہا تھا، اس کے ذریعے علاقے میں محصور آبادی کو امداد پہنچانے کی اجازت لی گئی تھی اور اس کے لیے تیاریاں کی گئی تھیں۔‘

اطلاعات کے مطابق شامی فوج اور باغی ایک دوسرے پر سات روز قبل شروع ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

امریکہ جس نے روس کے ساتھ مل کر جنگ بندی کا یہ معاہدہ کیا تھا، نے کہا ہے کہ وہ اس معاہدے میں توسیع کے لیے کام کر رہا تھا مگر اب امریکہ نے روس سے کہا ہے کہ وہ شام کی جانب سے آنے والے بیان کی وضاحت کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ .

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہا ’ہمارا انتظام روس کے ساتھ ہے جو کہ شامی حکومت کی فرمانبرداری کا ذمہ دار ہے، ہم روس سے وضاحت کی توقع کرتے ہیں۔‘

امریکہ کا کہنا ہے کہ روس اور امریکہ نے شام کی صورت حال پر منگل کو مزید بات چیت کرنی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے نامہ نگار کے مطابق فضائی حملوں اور شیلنگ کے ذریعے سوکاری اور امریریا نامی دو مشرقی اضلاع کو نشانہ بنایا گیا۔

حکومت کی حمایت سے کیے جانے والے ان فضائی حملوں میں حمص، ہما اور ادلب کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل شامی فوج نے کہا تھا کہ اس کے سات روزہ’خاموش حکومت‘ کی مدت پوری ہو گئی ہے۔

باغی گروہ جسے شامی فوج نے دہشت گرد کہہ کر پکارا تھا کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ معاہدے کی کسی بھی شق پر عمل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ادھر امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے شام کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان پر تنقید کی اور کہا ’یہ اچھا ہوتا اگر وہ اس میں پہل نہ کرتے۔‘

روسی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل سرگئی ردسکوئی نے کہا تھا کہ باغیوں کی جانب سے فائر بندی کا احترام نہیں کیا جا رہا، ہم شامی فوج کی جانب سے اس کے یکطرفہ احترام کو بے معنی سمجھتے ہیں۔‘

اس جنگ بندی میں محصور شامیوں تک امداد پہنچانا بھی شامل تھا تاہم پیر تک بہت سی امداد ابھی متاثرہ علاقوں تک پہنچنی باقی تھی۔

باغیوں کے زیرِ قبضہ حلب میں دو لاکھ 75 ہزار افراد پھنسے ہوئے ہیں۔

ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ حمص کے ایک گاؤں میں کچھ امداد پیر کو پہنچائی گئی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں