نیو یارک، مشتبہ ملزم کو طبی امداد پر ٹرمپ کی تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ AP

امریکہ کی رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے افسوس ظاہر کیا ہے کہ نیویارک بم دھماکے کے مشتبہ ملزم احمد خان رحمی کی گرفتاری کے بعد انھیں طبی اور قانونی امداد فراہم کی جائے گي۔

واضح رہے کہ حراست میں لیے گئے 28 سالہ مشتبہ شخص احمد خان رحمی افغان نژاد امریکی شہری ہیں۔

احمد خان رحمی کو پانچ مواقع پر قتل کی کوششوں کا ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔

٭ نیویارک بم دھماکے، ’مشتبہ شخص پولیس کی حراست میں‘

٭ نیویارک میں ایک ہزار اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ’اب ہم انھیں ہسپتال میں داخل کروا دیں گے۔ دنیا کے کچھ بہترین ڈاکٹر ان کا خیال رکھیں گے۔

’کتنی بری صورتِ حال ہے کہ انھیں ایک جدید ہسپتال کا کمرہ فراہم کیا جائے گا اور شاید انھیں روم سروس بھی مہیا ہو۔‘

اس سے پہلے حکام نے کہا تھا کہ احمد خان رحمی ایک روبوٹ کی مدد سے بم کو ناکارہ بنا رہے تھے جب وہ پھٹ گیا۔

حکام نے بتایا کہ یہ ان پانچ بموں میں سے ایک تھا جو کہ ایک بستے میں سٹیشن کے قریب ملے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ WABC
Image caption احمد خان رحمی کو پانچ مواقع پر قتل کی کوششوں کا ملزم ٹھہرایا گیا ہے

حکام نے بتایا کہ یہ ایک کنٹرولڈ ڈیٹونیشن یعنی جان بوجھ کر بم کو ایک محتاط انداز میں تباہ کرنے کی کارروائی نہیں تھی اور یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب روبوٹ نے ایک تار کاٹی۔

یاد رہے کہ گذشتہ اختتامِ ہفتہ پر نیویارک اور نیوجرسی میں تین دھماکے کیے گئے۔ نیویارک شہر کے علاقے چیلسی میں ہونے والے دھماکے میں 29 افراد زخمی ہوئے تھے تاہم ان سب کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔

چیلسی کا شمار مین ہٹن کے امیر علاقوں میں ہوتا ہے جہاں بازار اور ریستوران ہفتے کے آخر میں کافی مصروف ہوتے ہیں اور یہاں ہجوم رہتا ہے۔

اس سے قبل امریکہ میں حکام کا کہنا تھا کہ نیویارک میں سنیچر کی رات ہونے والے دھماکے اور قریب سے ہی ملنے والے ایک اور آلے دونوں ہی میں لوہے کے ٹکڑوں بھرے پریشر ککر کا استعمال کیا گیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں