حلب میں فرانسیسی طبی مرکز پر بمباری، ’چار ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پانچ سالی شامی جنگ میں تین لاکھ سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں

شام میں طبی امداد فراہم کرنے والی ایک فرانسیسی تنظیم نے کہا ہے کہ حلب میں اس کے طبی مرکز پر ہونے والے حملے میں اس کے عملے کے چار ارکان ہلاک ہوگئے ہیں۔

انٹرنیشنل یونین آف میڈیکل کیئر اور ریلیف آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ منگل کی شب شمالی شام کے شہر حلب میں باغیوں کے علاقے میں ایک طبی مرکز پر حملہ ہوا ہے جس میں مرکز کی عمارت زمیں بوس ہو گئی ہے۔ اس میں مزید لاشوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

٭ قافلے پر حملے کے بعد شام کے لیے اقوامِ متحدہ کی تمام امداد معطل

یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ ایمرجنسی طبی مرکز حلب کے جنوبی قصبے خان طومان میں تھا۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق علاقے میں گروپ کے ہسپتالوں کے ڈائرکٹر احمد دباس نے ایک بیان میں کہا: ’عمارت تین منزلہ تھی جس میں بیسمنٹ بھی تھی لیکن بمباری کے سبب عمارت پوری طرح زمیں بوس اور مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔‘

برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں چار نرسیں اور طبی عملے اور نو باغی شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ باغی القاعدہ سے منسلک گروپ ’فتح الشام فرنٹ‘ سے تعلق رکھتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس سے قبل پیر کو شام کے شہر حلب کے قریب اقوامِ متحدہ کے امدادی قافلے کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 20 افراد ہلاک ہوئے جبکہ سامان سے بھرے 31 میں سے 18 ٹرک تباہ ہو گئے تھے۔

امریکہ نے شام میں اقوامِ متحدہ کے امدادی قافلے پر حملے کی ذمہ داری روس پر عائد کی تھی۔

جبکہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے شامی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ پانچ سالہ خانہ جنگی میں اس نے زیادہ تر اپنے شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے آخری خطاب میں بان کی مون کا کہنا تھا کہ جو بھی شام میں ایک دوسرے سے جنگ لڑنے والوں کی حمایت کرتا ہے ان کے ہاتھوں پر بھی خون لگا ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام کی جنگ میں لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں

خیال رہے کہ امدادی قافلے پر حملے کے بعد اقوامِ متحدہ نے شام بھجوائی جانے والی تمام امداد کو معطل کر دیا ہے۔

ادھر نیویارک میں موجود سفیر ایک ہفتے تک چلنے والے جنگ بندی کے معاہدے کو بچانے کے لیے کوشاں ہیں۔

امریکی سیکریٹری خارجہ جان کیری نے روسی ہم منصب سرگئی لاؤورف سے بات چیت میں اصرار کیا کہ معاہدہ ’بےجان نہیں‘ ہوا۔

بان کی مون نے کہا کہ ’بہت سے گروہوں نے بہت سے معصوموں کو مارا ہے مگر شامی حکومت سے زیادہ نہیں جس نے علاقوں کو بیرل بموں سے نشانہ بنایا اور منظم انداز میں ہزاروں قیدیوں پر تشدد کیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو ممالک اس جنگ میں مدد فراہم کر رہے ہیں ان کے ہاتھ بھی خون میں رنگےہوئے ہیں۔

سیکریٹری جنرل نے اقوامِ متحدہ کے قافلے پر حملے کو بیزار کر دینے والا، وحشیانہ اور بظاہر دانستہ اقدام قرار دیا اور کہا کہ اس کے ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے۔

شام نے بان کی مون پر اقوامِ متحدہ کے منشور کا تمسخر اڑانے کا الزام عائد کیا ہے۔

شامی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ بین الاقوامی اختلافات کا حل نکالنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں