’پاکستان کو دہشت گردی کی کفیل ریاست قرار دیا جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

امریکہ کے دو قانون سازوں نے کانگریس میں بل پیش کیا ہے جس میں پاکستان کو ’دہشت گردی کی کفیل ریاست‘ قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ بل ٹیکسس سے تعلق رکھنے والے ممبر کانگریس ٹیڈ پو اور کیلیفورنیا سے منتخب ہونے والے ممبر ڈینا روہرابیچر نے پیش کیا۔

یہ بل ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب وزیراعظم پاکستان نواز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے لیے امریکہ میں موجود ہیں۔

واضح رہے کہ کانگریس کے ممبر ٹیڈ پو ہاؤس کمیٹی برائے دہشت گردی کے چیئرمین بھی ہیں۔

ٹیڈ پو کا کہنا ہے پاکستان ایک ’ناقابل اعتماد اتحادی‘ ہے اور الزام عائد کیا کہ وہ کئی سالوں سے امریکہ کے دشمنوں کی امداد کرتا آیا ہے۔

’اسامہ بن لادن کی پرورش سے لے کر حقانی نیٹ ورک سے اس کے تعلقات جیسے ثبوت اس بات کے لیے کافی ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کس کے ساتھ ہے اور یقیناً وہ امریکہ نہیں ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اس بل کی وجہ سے اوباما انتظامیہ کو اس سوال کا باضابطہ طور پر جواب دینا ہو گا۔

’وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کی امداد بند کردی جائے اور اسے دہشت گردی کی امداد کرنے والی ریاست قرار دے دیا جائے۔‘

ہاؤس کمیٹی برائے دہشت گردی کے چیئرمین کاکہنا ہے کہ امریکی صدر براک اوباما کو بل پاس ہونے کے 90 دن کے اندر اندر اس حوالے سے رپورٹ جاری کریں کہ آیا پاکستان نے ’عالمی دہشت گردی‘ کی مدد کی ہے یا نہیں۔

’اس کے 30 دن بعد وزیر خارجہ کو ایک رپورٹ پیش کرنی ہو گی جس میں یہ بتایا جائے کہ آیا پاکستان دہشت گردی کی امداد کرنے والی ریاست ہے یا اس بات کی تفصیلی وضاحت پیش کی جائے کہ پاکستان دہشت گردی کی امداد کرنے والی ریاست کی قانونی شرائط پر کیوں پورا نہیں اترتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

یاد رہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیکٹر اوڑی میں اتوار کی صبح بریگیڈ ہیڈ کوارٹر پر حملہ ہوا تھا جس میں 18 فوجی اور چار شدت پسند مارے گئے تھے۔ اس حملے کے بعد انڈیا کے حکومتی حلقوں میں پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کے امکانات پر بحث جاری ہے۔

اس حملے کے بعد سے بھارتی حکومت نے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تناہ کرنے کے لیے بڑی جارحانہ سفارتی مہم شروع کر رکھی ہے۔

واشنگٹن میں ہمارے نامہ نگار برجیش اُپادھیائے نے بتایا کہ کہ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بل کے منظور ہونے کے امکانات نہیں ہیں۔

امریکہ اور پاکستان تعلقات کی ماہر شمیلا چودھری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات ابھی اس موڑ تک نہیں پہنچے جہاں وہ بالکل ہی ایک دوسرے سے رشتہ توڑ لیں۔

’کانگریس کے یہ دونوں سیاستدان پہلے بھی پاکستان کو دی جانے والی فوجی اور مالی امداد روکنے کے لیے کہہ چکے ہیں۔‘

تاہم شمیلا چودھری کا کہنا ہے اس بل کی منظوری کے امکانات تو نہیں ہیں لیکن اس کی وجہ سے پاسکتان کو ملنے والی دوسری مدد پر اثر پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں