موصل میں دولتِ اسلامیہ کےخوف میں زندگی

تصویر کے کاپی رائٹ .

عراق کے شہر موصل میں جون 2014 میں جب خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم نے قبضہ کیا تو اس وقت وہاں احمد یونیورسٹی میں انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

شہر پر دولتِ اسلامیہ کے قبضے کے دن سے وہاں ہر چیز تبدیل ہوگئی۔یونیورسٹی کو بند کر دیا گیا اور زندگی ایسی بن گئی کہ ہر روز زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑی۔

رواں برس موسم گرما میں دو برس کے بعد احمد (سکیورٹی خدشات کی وجہ سے اصل نام نہیں) وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔

موصل سے فرار سے چند ہفتے پہلے احمد نے بڑا خطرہ مول لیتے ہوئے خفیہ طور پر شہر میں دولتِ اسلامیہ کے قبضے کے دوران موت کے خوف میں زندگی گزارنے کے تجربات کو تحریر کیا۔

احمد نے اب اپنی ڈائری کا خصوصی پر بی بی سی سے تبادلہ کیا ہے۔ اس ڈائری میں سے ایک ہفتے کے دوران رونما ہونے والے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔

پیر:’وہ کسی کو بھی مار دیتے ہیں)

تصویر کے کاپی رائٹ ILLUSTRATION BY MORTEZA RAKHTAALA

پیر کو میری ایک سمگلر سے بات ہوئی۔ چند دن سے میں شہر سے فرار ہونے کی منصوبہ بندی کر رہا ہوں۔ میں خوفزدہ ہوں کیونکہ باہر جانے والی سڑک سو فیصد محفوظ نہیں تھی۔ اگر راستے میں دولتِ اسلامیہ کے کسی بھی شدت پسند سے آمنا سامنا ہو جاتا تو اس صورت میں بڑی مشکل پڑ سکتی ہے۔ لیکن ہمارے پاس وہاں لوگ تھے اور سڑک کے محفوظ ہونے پر انھوں نے ہمیں آگاہ کرنا ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے سائے تلے زندگی کسی طرح بھی اچھی نہیں تھی۔ مردوں کو اپنی داڑھی تراشنے کی اجازت نہیں اور انھیں اپنے پاجامے چھوٹے کرنے کی ہدایت کی گئی ۔ آپ سگریٹ نہیں پی سکتے۔ خواتین کو نقاب پہننا لازمی ہے اور اس کے ساتھ انھیں اپنے ہاتھوں کو بھی ڈھانپنا ضروری ہے۔

دولتِ اسلامیہ نے لوگوں کو ٹی وی دیکھنے سے منع کر رکھا ہے کیونکہ ان کے خیال میں زیادہ تر سٹیلائٹ ٹی وی چینل مسلمانوں کے خلاف ہیں۔ لیکن ہر کوئی یہ جانتا تھا کہ ایسا وہ اپنے نقصانات کو چھپانے کے لیے کر رہے تھے۔ اگر کوئی دولتِ اسلامیہ کے بنائے گئے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتا تو اس پر تشدد کیا گیا اور بعد میں جیل بھیج دیا جاتا اور اس کے بعد وہاں سے نکلنے کے لیے رقم ادا کرنا پڑتی۔

دولتِ اسلامیہ نے 2014 میں موصل پر قبضہ کیا تھا اور ان لوگوں کے بارے میں کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ ان کے خیال میں یہ قبائلی جنگجو ہیں اور یہ عراقی فوج کے مظالم کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے ابھرے ہیں۔ لیکن انھوں نے خلافت کا اعلان کر کے سخت گیر قوانین کا اطلاق شروع کر دیا۔

اب ہر کوئی ان کے بارے میں جانتا تھا۔ ان کے اپنے ذاتی مفادات تھے۔ وہ ہر اس شخص کو مار دیتے جو ان کے خیالات کی نفی کرتا ہے۔انھوں نے شہر میں آثار قدیمہ کو تباہ کر دیا۔ اب لوگوں نے انھیں مسترد کر دیا ہے اور وہ عراقی فوج کے منتظر ہیں کہ وہ انھیں اس سے آزادی دلائے۔

منگل:’کوئی روزگار نہیں اور نہ ہی کوئی معاوضہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ ILLUSTRATION BY MORTEZA RAKHTAALA

آج صبح میرا دوست گھر سے باہر خریداری کے لیے نکلا تو اس نے دیکھا کہ دولتِ اسلامیہ نے تین افراد کو اس وجہ سے جان سے مار دیا کہ وہ ان کی تنظیم کو ہونے والے نقصانات کے بارے میں بات کر رہے تھے۔

اس طرح کی خبر سن کر بہت صدمہ پہنچا۔ وہ بے معنی وجوہات کی بنا پر لوگوں کی زندگیاں چھین رہے تھے۔ وہ اللہ کے الفاظ کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے توڑ مروڑ کر پیش کر رہے تھے۔

ماضی میں اپنے دوستوں کے ساتھ باہر کیفے جاتا تھا، فٹبال کھیلتے یا اکٹھے پڑھائی کرتے لیکن اب زیادہ تر جگہیں بند ہو چکی ہیں جہاں پہلے کبھی ہم جایا کرتے تھے۔ جب بھی میں باہر جاتا تو بہت محتاط رہتا اور اپنے گھر سے زیادہ دور نہیں جاتا اور غیر محفوظ جگہوں پر جانے سے اجتناب کرتا ہوں۔

آج میری والدہ نے ہمارے لیے بہت لذیذ کھانا پکایا تھا۔ ہمیں کھانے میں استعمال ہونے والی اشیا کو بعض اوقات بازار سے خریدنے کی ضرورت پڑتی لیکن یہ بہت مہنگی تھیں۔ یہاں زیادہ تر لوگ وہ سبزیاں استعمال کرتے ہیں جو مقامی لوگ خود اگاتے تھے اور انھیں حاصل کرنا آسان ہوتا ہے لیکن آٹا، چینی اور چاول جیسی اشیا کو حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ یہ بہت مہنگی ہوتی ہیں۔ لوگوں کے پاس انھیں خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ ان کے پاس کام یا روزگار نہیں ہے اور نہ ہی کوئی تنخواہ وغیرہ ملتی ہے۔

بدھ:’ہمارے گھروں پر قبضہ)

تصویر کے کاپی رائٹ ILLUSTRATION BY MORTEZA RAKHTAALA

آج مجھے اپنی یونیورسٹی بہت یاد آ رہی ہے۔ میں وہاں جاتا تھا اور اپنے دوستوں سے ملاقات کرتا تھا لیکن جب سے دولتِ اسلامیہ آئی ہے سب کچھ تبدیل ہو گیا ہے۔ انھوں نے یونیورسٹی کو اپنے رہنماؤں سے ملاقاتیں کرنے کی جگہ بنا لیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ یونیورسٹی کی لیباٹریزی اور ویئر ہاؤسز کو دھماکہ خیز مواد کی تیاری کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اس کے نتیجے میں اتحادی افواج نے تمام عمارتوں پر بمباری کی اور اب یہ کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہے۔ یہ بہت ہی افسردہ دن تھا۔

دولتِ اسلامیہ نے ہمارے علاقے میں چند مکانات پر قبضہ کرنا شروع کر دیا ہے کیونکہ ان کے مکین وہاں سے جا چکے تھے۔ دولتِ اسلامیہ یہ مکانات اپنے جنگجوؤں کو دے رہی ہے۔ وہ ان علاقوں میں عام شہریوں کی موجودگی کا فائدہ اٹھا رہے تھے تاکہ اتحادی افواج انھیں فضائی حملوں میں نشانہ بنانے سے گریز کریں۔

اتحادی افواج نے دولتِ اسلامیہ کے زیر استمعال متعدد مکانات پر بمباری کی ہے جس سے عام شہری پریشان اور فکرمند ہیں۔ دولتِ اسلامیہ کو عام شہریوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔وہ اس خواہش کا اظہار کرتے کہ اتحادی افواج یہاں حملے کرے تاکہ عام لوگوں کو اس اتحاد کے خلاف مشتعل کیا جا سکے۔ لیکن اب لوگ اس کے بارے میں سب جانتے ہیں۔

جمعرات:’اپنے فون چھپا دیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ ILLUSTRATION BY MORTEZA RAKHTAALA

دولتِ اسلامیہ نے گھروں کی تلاشی لینی شروع کر دی اور انھیں موبائل فونز کی تلاش تھی۔ وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ کون اتحادی افواج سے رابطے میں ہے۔ انھوں نے ایک شخص کو گرفتار کیا کیونکہ اس کی جیکٹ کی جیب سے موبائل فون برآمد ہوا تھا۔

میں نے بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اپنے موبائل فون کو ایک خفیہ جگہ پر چھپا دیا۔ ہم اپنے ہی گھروں میں خود کو غیر محفوظ تصور کرتے تھے۔ اگر آپ کی جیب سے موبائل فون برآمد ہو تو آپ مارے جائیں گے۔ اگر آپ کی جیب میں موبائل فون ہے تو خوف کی وجہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کے پاس جوہری ہتھیار ہے۔

جمعہ:’سخت ذہنی دباؤ‘

تصویر کے کاپی رائٹ ILLUSTRATION BY MORTEZA RAKHTAALA

آج میں مسجد گیا۔ دولت اسلامیہ لوگوں کو قائل کر رہی تھی کہ وہ اس میں شمولیت اختیار کریں لیکن کسی نے بھی اس کی پرواہ نہیں کی۔ آج میں خود کو گھبرایا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ کیا میں یہاں قیام کروں اور عراقی فوج کا انتظار کروں اور خطرہ مول لیتے ہوئے دولتِ اسلامیہ کے تسلط سے بھاگ جاؤں۔

میں یہاں سے فرار ہونا چاہتا ہوں لیکن میں غیر موافق صورتحال کا سامنا نہیں چاہتا کیونکہ عراقی فوج مجھے کیمپ میں ڈال دے گی اور اس وقت تک وہاں سے جانے کی اجازت نہیں ملتی جب تک کوئی مجھے سپانسر نہ کرتا جو کوئی کرد یا عراقی حکومت کا ملازم ہو سکتا ہے۔

یہاں پر صورتحال بہت پریشان کن ہے۔ میں امید کر رہا ہوں کہ آنے والے دنوں میں سڑک محفوظ ہو جائے گی اور میں دولتِ اسلامیہ سے فرار حاصل کر لوں کیونکہ میں یہاں صورتحال کو مزید برداشت نہیں کر سکتا ہوں۔

٭ اس دن کی ڈائری کے بعد احمد موصل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اس وقت عراق کے ایک اور شہر میں مقیم ہیں اور انھوں نے اپنی پڑھائی دوبارہ شروع کر دی ہے۔ احمد کا خاندان اب بھی موصل میں ہی موجود ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں