شام: بمباری سے حلب میں آگ بھڑک اٹھی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شام کے شہر حلب میں گذشتہ پیر کو اقوامِ متحدہ کے امدادی قافلے کو نشانہ بنایا گیا تھا

شام میں کام کرنے والے امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ملک کے شمالی شہر حلب میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں جنگ بندی کے ایک ہفتے کے بعد راتوں رات شدید بمباری کی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ جنگی جہازوں نے رات بھر حلب میں بمباری کی جس کی وجہ سے شہر کی گلیوں میں آگ لگ گئی۔

٭ روس امدادی قافلے پر حملے کا ذمہ دار ہے: امریکہ

٭ ’جنگ بندی کے بعد حلب میں پہلی فضائی کارروائی‘

٭ حلب میں جنگ بندی کی روسی پیشکش کا خیر مقدم

شام میں کام کرنے والے ایک امدادی گروپ کا کہنا ہے کہ بستان القصر میں بمباری سے تین بچوں سمیت سات افراد ہلاک ہوئے۔

شام کے جنوبی ضلعے میں بھی لڑائی کی اطلاعات ہیں جہاں باغی حکومتی افواج کا محاصرہ توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ترکی کی سرحد کے قریب واقع شام کا شہر حلب ایک قدیم تجارتی اور صنعی مرکز رہا ہے لیکن سنہ 2012 کے بعد سے حلب باغیوں اور حکومتی افواج کے درمیان تقسیم ہو چکا ہے۔

حلب کے مغربی حصے پر شام کی حکومتی افواج جب کہ مشرقی حصے پر باغیوں کا قبضہ ہے۔

حلب میں جاری لڑائی کی وجہ سے 20 لاکھ افراد شہر میں پھنسے ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ پیر کو شام کے شہر حلب کے قریب اقوامِ متحدہ کے امدادی قافلے کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 20 افراد ہلاک جب کہ سامان سے بھرے 31 میں سے 18 ٹرک تباہ ہو گئے تھے۔

امریکہ نے کہا ہے کہ شام میں اقوامِ متحدہ کے امدادی قافلے پر حملے کی ذمہ داری روس پر عائد ہوتی ہے تاہم روس کا موقف ہے کہ نہ تو اس نے اور نہ ہی شامی جہازوں نے حملہ کیا ہے اور یہ حادثہ کسی فضائی حملے کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ زمین پر آگ لگنے کی وجہ سے پیش آیا۔

دوسری جانب شامی حکومت کے ایک ترجمان کا جعمرات کو کہنا تھا کہ حکومت ایک امدادی قافلہ دارالحکومت دمشق بھیجے گی۔ انھوں نے ’مستقبل قریب‘ میں حلب تک امدادی پہنچنے کی امید ظاہر کی ہے۔

اسی بارے میں