سزا یافتہ ہم جنس پرستوں کے لیے معافی کی ’تجویز‘

Image caption دوسری جانب عظیم کے دوران ہم جنس پرستی کے جرم میں ایلن ٹرینگ کو سنہ 1952 میں سزا سنائی گئی تھی

برطانیہ میں حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسا نیا قانون متعارف کروانے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت ماضی میں ہم جنس پرستی کے جرم میں سزا پانے والے مردوں کو عام معافی دی جائے گی۔

ان افراد کو فحاشی کے قانون کے تحت سزائیں دی گئیں تھیں۔

اس نام نہاد ایلن ٹیورنگ قانون کے تحت ہزاروں افراد کو معافی مل جائے گی۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران قوائد کی خلاف ورزی کرنے والے ایلن ٹیورنگ کو سنہ 1952 میں سزا سنائی گئی تھی جس کے بعد سنہ 2013 میں معافی دی گئی۔

حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اس تجویز کے لیے ’پرعزم‘ ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ’حکومت پرعزم ہے کہ وہ تاریخ میں جنسی جرائم کے مرتکب ہونے والے ایسے افراد کے لیے بھی عام معافی کا اعلان کرے جو اب اس دنیا میں نہیں رہے ہیں۔‘

’ہم اپنی اس تجویز کو باقاعدہ طریقۂ کار سے آگے لے کر چلیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption مسٹر ایلن ٹرینگ کے رشتے داروں نے اُن کی معافی کے لیے بھرپور مہم چلائی تھی

سنہ 1967 میں ہم جنس پرستی کو جرائم کی فہرست سے نکال دیاگیا تھا۔

49 ہزار مرد جنھیں فحاشی کے جرم میں سزا دی گئی تھی کی معافی کے لیے مسٹر ایلن ٹیورنگ کے رشتے داروں نے بھرپور مہم چلائی تھی۔

انھیں ٹی وی کے معروف میزبان اور ادکاروں کی بھی حمایت حاصل تھی۔

برطانیہ میں لیبر پارٹی نے بھی معافی کی تجویز کی حمایت کی تھی اور کنزرویٹو جماعت نے سنہ 2015 کے منشور میں اس کی حمایت کی تھی۔

ایلن ٹیورنگ ماہر ریاضیات تھے اور سنہ 1954 میں انھوں نے خودکشی کر لی تھی۔ ایلن ٹیورنگ کو اُن کی وفات کے تقریباً 60 سال کے بعد سنہ 2013 میں ملکہِ برطانیہ نے معافی دی تھی۔

سنہ 2009 میں اُس وقت کے برطانیہ کے وزیراعظم گورڈن براؤن نے ٹیورنگ کے ساتھ برا سلوک کرنے پر اُن سے معذرت کی تھی۔

انھیں 19 سال کے ایک لڑکے کے ساتھ جنسی روابط رکھنے کے جرم میں سنہ 1952 میں سزا دی گئی تھی۔ جس کے بعد کیمیائی طریقے سے اُن کی نامرد کر دیا گیا تھا۔

مسٹر ٹیورنگ نے دوسری جنگِ عظیم میں جرمنی کے مخالف اتحادی ممالک جرمنی کے ریڈیو پیغامات کے خفیہ کوڈ کو توڑ کر انھیں جاننے کی کوشش کرتے تھے اور جنگ میں اتحادی ممالک کی کامیابی اس نے اہم کردار ادا کیا۔

اس سزا کا مطلب یہ تھا کہ مسٹر ٹیورنگ کی سکیورٹی کلیئرنس نہیں ہو گی اور جرمنی کی جانب سے استعمال ہونے والے خفیہ ریڈیو پیغامات کو سمجھنے کا کام نہیں کر سکیں گے۔۔

متعلقہ عنوانات