حلب میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر تازہ فضائی حملے

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption طیاروں نے حلب میں بمباری سے متاثرہ افراد کو بچانے کے لیے بنائےگئے مراکز کو نشانہ بنایا ہے

شام میں جنگ بندی کے معاہدے کی ناکامی کے بعد صدر بشار الاسد کی حامی افواج نے حلب میں باغیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں پر شدید بمباری کی ہے۔

شامی رضاکاروں کے ادارے ’دی وائٹ ہیلمٹ‘ نے کہا ہے کہ روسی اور شامی طیاروں نےحلب میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر بمباری کی ہے۔

٭بمباری سے حلب میں آگ بھڑک اٹھی

٭امدادی قافلے پر حملے کے بعد امداد کی فراہمی معطل

ایک امدادی کارکن نے فضائی حملوں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ’حلب میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ مکمل تباہی ہے۔‘

شامی حکومت نے فضائی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ باغیوں کی پوزیشنوں سے دور رہیں۔ حکومت نے مزید کہا کہ وہ باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں سے نکلنے کے لیے راستے کھلے رکھے جا رہے ہیں اور ان راستوں کو باغی اور عام شہری دونوں استعمال کر سکتے ہیں۔

روس نے ابھی تک حلب پر فضائی حملوں میں حصہ لینے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

رضاکار ادارے ’دی وائٹ ہیلمٹ‘ نے کہا ہے کہ جمعہ کی صبح حلب پر درجنوں فضائی حملے کیےگئے۔ ادارے نے مزید کہا کہ بمباری سے متاثرہ افراد کو بچانے کے لیے بنائے گئے مراکز کو نشانہ بنایاگیا ہے اور چار میں تین مرکز اب مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ بشار الاسد کی حامی افواج فضائی کارروائی کے بعد زمینی کارروائی بھی کریں یا نہیں۔

اس سے قبل شام میں جنگ بندی کےمعاہدے کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر ہونے والی ملاقات بے نتیجہ ختم ہو گئی تھی۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف شامی جنگی طیاروں کی پروازیں بند کرنے اور شہروں پر بمباری روکنے کے لیے اتفاق رائے نہیں کر سکے۔

نیویارک میں روسی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ’اب سوال یہ ہے کہ آگے بڑھنے کے لیے کیا مواقع ہیں کیونکہ اب یہ واضح ہے کہ اب ہم اس راستے پر مزید نہیں چل سکتے۔‘

دوبارہ سے جنگ بندی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ ممکن ہے کہ تو اس کے لیے ہمیں جس پہلی چیز کی ضرورت ہو گی وہ اس عمل کی بحالی کے لیے معتبر راستے کی تلاش ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کےحصول کے لیے واحد راستہ یہ ہے کہ جس کے پاس فضائی طاقت ہے وہ اس کےلیےاستعمال کو بند کرے۔

’ایک یا دو دن کے لیے نہیں بلکہ جتنا زیادہ عرصے تک ممکن ہو تب تک کے لیے تاکہ ہر کوئی دیکھ سکے کہ وہ سنجیدہ ہیں۔‘

امریکہ چاہتا ہے کہ روس شامی حکومت کو اپنے جنگی طیاروں کی پروازیں بند کرنے پر آمادہ کرے۔

ادھر روس کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا یک طرفہ جنگ بندی ہوگا۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندے سٹیفن ڈی میسوترا کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات طویل، اذیت ناک اور مایوس کن تھی۔‘

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ وہ شام کے معاملے پر روسی حکام کے ساتھ جمعے کو بھی ملاقات کریں گے۔

بدھ کی شب مشرقی حلب میں ہونے والے تازہ فضائی حملے میں 13 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں کے اس حملے میں زمینی فوج بھی استعمال کیا جا رہی ہے یا نہیں۔

شام کے سرکاری میڈیا نے فوج کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ شہریوں کو اس بات کی تاکید کر رہی ہے کہ وہ ’دہشت گردوں‘ کے زیرِ قبضہ علاقے میں جانے سے گریز کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ علاقے سے نکلنے کے لیے راستے موجود ہیں شہریوں سمیت باغی بھی وہاں سے جا سکتے ہیں۔

ترکی کی سرحد کے قریب واقع شام کا شہر حلب ایک قدیم تجارتی اور صنعی مرکز رہا ہے لیکن سنہ 2012 کے بعد سے حلب باغیوں اور حکومتی افواج کے درمیان تقسیم ہو چکا ہے۔

حلب کے مغربی حصے پر شام کی حکومتی افواج جب کہ مشرقی حصے پر باغیوں کا قبضہ ہے۔

حلب میں جاری لڑائی کی وجہ سے 20 لاکھ افراد شہر میں پھنسے ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ پیر کو شام کے شہر حلب کے قریب اقوامِ متحدہ کے امدادی قافلے کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 20 افراد ہلاک جب کہ سامان سے بھرے 31 میں سے 18 ٹرک تباہ ہو گئے تھے۔

نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی وزیرِ خارجہ ان کے روسی ہم منصب سمیت شام میں بین الاقوامی حمایتی گروپ جس میں دنیا کے 21 ممالک شامل ہیں کے مندوبین موجود ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں