سعودی خواتین کی مردانہ سرپرستی کے خلاف درخواست

تصویر کے کاپی رائٹ Aziza AlYousef

سعودی عرب میں خواتین نے مردوں کی سرپرستی کے نظام کو ختم کرنے اور اسے حکومت کے سپرد کرنے کے لیے ایک درخواست جمع کروائی ہے جس پر 14 ہزار سے زائد خواتین نے دستخط کیے ہیں۔

سعودی عرب میں خواتین کے لیے ملک سے باہر سفر کرنے کے لیے سرپرست مرد کی رضآمندی حاصل کرنا لازم ہے۔ اس کے علاوہ ان کے لیے ملازمت کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھی اجازت لینا ضروری ہے۔

اس طرح کی پہلی اور بڑے پیمانے پر چلائی جانے والی مہم کو آن لائن ٹرینڈ کرنے والے ہیش ٹیگ پر ملنے والی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔

سرگرم کارکن اور اس درخواست کو جمع کروانے والی خاتون عزیزہ ال یوسف نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’مجھے اس پر فخر ہے لیکن اب مجھے ردعمل کی ضرورت ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Aziza alYousef

اسلامی ریاست سعودی عرب میں خاتون کے لیے پاسپورٹ حاصل کرنے، شادی اور ملک چھوڑنے کے لیے اپنے شوہر، بھائی یا کسی دوسرے مرد رشتہ دار اور بیوہ کی صورت میں اپنے بیٹے سے اجازت لینا لازمی ہوتا ہے۔

کئی دفاتر اور تعلیمی اداروں میں بھی خواتین سے ان کے سرپرست کی رضامندی حاصل کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے جبکہ یہ قانونی طور پر لازمی نہیں ہے۔

اس کے علاوہ خواتین کو کرائے پر مکان حاصل کرنے اور ہسپتال میں علاج یا پھر اکثر اوقات قانونی کارروائی کے لیے بھی مرد سرپرست سے اجازت لینا پڑتی ہے۔

جولائی میں ہیومن رائٹس واچ کی اس مسئلے کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عربی زبان میں ایک ہیش ٹیگ جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے :’سعودی خواتین سرپرستی کے نظام کا خاتمہ چاہتی ہیں‘ وائرل ہوگیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ms Saffaa

اس پر سعودی خواتین نے تبصرے، ویڈیوز اور تخلیقی کام ٹویٹ کرتے ہوئے تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ ایسے کلائی کے کڑے بھی دکھائی دیے جن پر درج تھا کہ ’میں اپنی سرپرست خود ہوں۔‘

اس پٹیشن پر دستخط کرنے والی خواتین کی اچھی خاصی تعداد نے اپنے مکمل نام دیے ہیں جبکہ زیادہ تر نامعلوم خواتین نے دستخط کیے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ہفتے کے اختتام پر سعودی شاہ کے دفتر بھیجے جانے والے پیغامات کی تعداد تقریباً 2500 تھی جس میں اس مہم کی ذاتی طور پر حمایت کرنے کے پیغامات بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Aziza alYoussef

ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے اس رپورٹ کی محقق کرسٹین بیکرل نے اس پر آنے والے ردعمل کو ’زبردست اور بے مثال‘ قرار دیا ہے۔

تاہم بعض سعودی خواتین کی جانب سے ایک اور عربی زبان کے ہیش ٹیگ کے ذریعے اس مہم کی مخلافت بھی کی گئی ہے۔ اس ہیش ٹیگ کا ترجمہ کچھ یوں ہے: ’سرپرستی ان کے لیے ہے نہ کہ ان کے خلاف ہے۔‘

عزیزہ ال یوسف کا کہنا تھا کہ ’مجھے اس پٹیشن پر کسی منفی نتائج کی امید نہیں ہے۔ میں خوف زدہ نہیں ہوں، میں کچھ غلط نہیں کر رہی۔‘

فی الحال سرکاری سطح پر اس پٹیشن کے بارے میں کسی قسم کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اسی بارے میں